خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 572 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 572

خطبات مسرور جلد ہشتم 572 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 05 نومبر 2010 ہے اور کہیں رات ہو گئی ہے، کہیں آدھی رات ہے۔اور تحریک جدید کے اعلان کے ساتھ ہی وعدوں اور وصولی کا سلسلہ بھی شروع ہو جاتا ہے۔تو صرف افراد ہی نہیں بلکہ جماعت من حیث الجماعت بھی ایک وقت میں رات اور دن کو جمع کر کے اپنی قربانی اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کر رہی ہے۔یہ رات اور دن کی قربانی کرنے والوں کے بارے میں جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے تو یہ بات اُس عالمگیریت کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے جو مسیح محمدی نے آکر امت واحدہ کی صورت میں پیدا کرنی تھی۔پس یہ وہ قربانیوں کا خوبصورت سلسلہ ہے جو خدا تعالیٰ کے دین کو دنیا میں پھیلانے کے لئے رات اور دن کے ہر حصہ میں اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے قائم فرمایا ہے تاکہ دنیا کے ہر حصہ میں ہر وقت مسیح محمدی کے بعثت کے مقصد کو جو تکمیل اشاعت ہدایت ہے پورا کرنے کے لئے قربانیاں پیش ہوتی چلی جائیں۔اشاعت ہدایت کی تکمیل یا اس کو تمام دنیا میں پھیلانا کوئی معمولی کام نہیں ہے۔یہ کام مسیح محمدی کے ماننے والوں کے ذمے لگایا گیا ہے۔آنحضرت ملا لی کی جو تعلیم اور ہدایت لائے وہ آپ کے وقت میں کامل ہوئی اور اس کامل ہدایت کو دنیا میں پھیلانا اور اس کی تکمیل آپ کی بعثت ثانیہ میں ہونی تھی۔پس اب یہ ہماری ذمہ داری ہے جنہوں نے مسیح محمدی کو مانا ہے۔گو دنیا کے مقابلے میں ہمارے وسائل بہت کم ہیں بلکہ نہ ہونے کے برابر ہیں۔لیکن جس کام کی تکمیل اللہ تعالیٰ نے ہمارے ذمہ ڈالی ہے یا لگائی ہے، اس کے لئے جب ہم رات دن قربانیوں میں مصروف رہیں گے تو برکت دینا پھر اللہ تعالیٰ کا کام ہے اس کا وعدہ ہے وہ دیتا ہے اور دے گا انشاء اللہ۔جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے کہ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ کہ نہ ان پر کوئی خوف ہے اور نہ وہ لوگ جو قربانیاں کرنے والے ہیں غم میں مبتلا ہوں گے۔بیشک دنیا کے وسائل بہت ہیں، بیشک دنیا کے پاس طاقت بہت ہے، بیشک اس وقت تعداد کے لحاظ سے غیروں کی کثرت ہے اور ہم چھوٹی سی جماعت ہیں لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہاری اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے رات دن کی قربانیاں جو صاف اور پاک دل ہو کر کی جاتی ہیں ، جو نام و نمود سے بالکل پاک ہیں، مبرا ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے حضور مقبول ہیں۔اس لئے تمہیں کسی قسم کا خوف اور غم کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ دنیا ہمارے ساتھ کیا کرے گی یا ہماری ترقی کس طرح ہو گی ، یا ہماری یہ قربانیاں نتیجہ خیز بھی ہوں گی کہ نہیں۔اللہ فرماتا ہے کہ جب تک تم پاک سوچ کے ساتھ یہ قربانیاں کرتے چلے جاؤ گے ، یہ قربانیاں نتیجہ پیدا کرتی چلی جائیں گی انشاء اللہ۔کیونکہ آخری نتیجہ تو خدا تعالیٰ نے پیدا کرنا ہے۔اور خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ میں قربانیوں کو سات سو گنا یا اس سے بھی زیادہ پھل لگاتا ہوں۔جو خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کے حضور جھکنے والے ہوتے ہیں ان کی قربانیوں کو بڑھاتا چلا جاتا ہوں۔جو لوگ اس کا عباد الرحمن بنتے ہوئے یہ قربانیاں پیش کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم جتنی قربانیاں پیش کرتے چلے جاؤ گے ان کو اللہ تعالیٰ اپنے وقت پر بڑھاتا چلا جائے گا، جلدی کی ضرورت نہیں۔نتیجہ تم خدا پر چھوڑ دو۔اپنی قربانیوں کو پیش کرتے ہوئے مسیح محمدی کے انصار میں شامل ہوتے چلے جاؤ اور حتی المقدور