خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 571
571 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 05 نومبر 2010 خطبات مسرور جلد ہشتم ہے تو اس کی قربانی کے معیار بڑھتے چلے جاتے ہیں۔وہ قربانیاں کرنے کے بعد احسان جتانا تو ایک طرف رہا وہ تو چھپ چھپ کر قربانیاں کرتے ہیں کہ پتہ نہ چلے۔اور صرف اور صرف یہ مد نظر ہوتا ہے کہ میرا خدا مجھ سے راضی ہو جائے۔اور یہ نظارے آج ہمیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت میں اکثر نظر آتے ہیں۔جو لوگ غیر ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ شاید جماعت کے پاس اربوں روپے ہیں۔پتہ نہیں کہاں سے ان کے پاس یہ پیسے آتے ہیں؟ اس کی وجہ سے جماعت اپنے منصوبوں پر اتنی آسانی سے عملدرآمد کر لیتی ہے۔انہیں پتہ نہیں ایک تو اللہ تعالیٰ جماعت کے تھوڑے سے پیسے میں بھی اتنی برکت عطا فرماتا ہے جو کہ دنیا داروں کی سوچ سے باہر ہے۔اور پھر یہ بھی کہ یہ اربوں روپے نہیں ہیں جو جماعت کے پاس ہیں بلکہ اخلاص و وفا اور خدا تعالیٰ کی رضا چاہنے کا وہ لا متناہی خزانہ ہے جو ان قربانی کرنے والے احمدیوں کے سینوں سے وقت پر ابل ابل کر نکلتا ہے۔ان کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے پاس اور ہو تو وہ اور دیں۔ایک جذبہ ہوتا ہے، ایک جوش ہوتا ہے، ایک شوق ہوتا ہے۔اور جماعت میں اور ہر قوم میں ایسی ہزاروں مثالیں ہیں۔دوسرے لوگ تو کسی مسجد کے لئے پانچ روپے چندہ دے کر پھر اس کا سو دفعہ اعلان کرواتے ہیں اور احمدی اپنی ضروریات کو کم کر کے بڑی بڑی قربانیاں دیتے ہیں۔لیکن اکثر یسرا ، چھپ کر۔ہاں بعض قربانیوں کا اعلان بھی ہوتا ہے لیکن وہ اعلان جماعت کی طرف سے ہوتا ہے۔ان لوگوں کی خواہش نہیں ہوتی کہ اعلان ہو۔یا بعض تحریکات میں چندہ دینے والوں کی فہرستیں بنتی ہیں جو خلیفہ وقت کو پیش کی جاتی ہیں صرف اس غرض کے لئے کہ ان کے لئے دعا کی تحریک پیدا ہو۔پس یہاں بھی جو مقصد ہے وہ نیک ہے۔دکھاوا نہیں ہے بلکہ خلیفہ وقت کو اس قربانی کی اطلاع دی جاتی ہے کہ وہ ان قربانی کرنے والوں کے لئے دعا کرے۔اللہ تعالیٰ ان قربانی کرنے والوں کے اموال و نفوس میں برکت ڈالے تا کہ قربانیوں کے معیار آئندہ پھر بڑھتے چلے جائیں۔پھر اس لئے بھی کہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ فَاسْتَبِقُوا الْخَيْراتِ (البقرة: 149) کہ نیکیوں کے حصول میں آگے بڑھنے کی کوشش کی طرف توجہ پیدا ہو۔آج تحریک جدید کے نئے سال کا اعلان ہونا ہے انشاء اللہ۔میں ابھی آپ کے سامنے وہ سارے کوائف رکھوں گا کہ کس طرح جماعتیں مالی قربانیوں کو پیش کرنے کی وجہ سے مالی قربانی کی نیکی میں آگے بڑھنے کی کوشش کرتی ہیں۔جب کو ائف سامنے آتے ہیں تو ہر سال دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔اور جماعت کی قربانی افراد جماعت کی قربانی کی وجہ سے ہے۔پس اگر مالی قربانی کا اظہار کیا جاتا ہے تو یہ تحریک کرنے کے لئے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم فَاسْتَبِقُوا الْخَيْراتِ (البقرة:149) کو بھی سامنے رکھو۔آج بحیثیت جماعت تمام دنیا میں صرف جماعت احمدیہ ہی ہے جس کے افراد يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ بِالَّيْلِ وَالنَّهَارِ کے حقیقی مصداق بن رہے ہیں۔یعنی عملی طور پر دن اور رات قربانی ہو رہی ہے۔چوبیس گھنٹے یہ قربانی کا سلسلہ جاری ہے۔جماعت احمد یہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے دنیا کے ہر خطے میں پھیلی ہوئی ہے۔ہر ملک میں پھیلی ہوئی ہے۔کہیں دن ہے کہیں رات ہے۔اس وقت بھی میں جو خطبہ دے رہا ہوں تو کسی ملک میں صبح سویرے کا وقت