خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 570 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 570

خطبات مسرور جلد ہشتم 570 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 05 نومبر 2010 کہ اگر سال تحریک جدید کا اعلان ہو گا تو اس میں ادا کروں گا۔اور میری یہ کوشش تھی کہ گزشتہ سال کا جو چندہ تحریک جدید تھا اس کے برابر یہ رقم ہو جائے۔اب قریب آکر جب انہوں نے ڈبے کو کھولا تو وہ رقم بہت کم تھی۔ابھی اس سوچ میں تھے کہ یہ کس طرح پوری ہو گی کہ کہتے ہیں کہ سیکر ٹری تحریک جدید میرے پاس پہنچ گئے کہ ہمارے اس سال کے ٹارگٹ میں اتنی کمی ہے۔ہم نے آپ کے ذمہ اتنی رقم لگائی ہے۔تو انہوں نے کہا میری محدود آمدنی ہے میں اتنی بڑی رقم تو ادا نہیں کر سکتا۔کہاں سے ادا کروں گا؟ بہر حال اب آپ آئے ہیں تو آپ کو کچھ نہ کچھ رقم میں دے دیتا ہوں، ورنہ جو میں نے جمع کیا ہوا ہے یا جو میں دیتا ہوں وہ تو سارا سال جمع کر کر کے دیتا ہوں اور میں نے اگلے سال کے لئے جمع کیا ہوا ہے کہ تحریک جدید کا اعلان ہو گا تو اس کے بعد ادا ئیگی کروں گا۔کہتے ہیں پھر مجھے خیال آیا کہ اگر اللہ تعالیٰ کی رضا چاہتے ہو تو اس سال یا اگلے سال کا کیا سوال ہے؟ دے دو کیونکہ رقم تو بہر حال ابھی بھی پوری نہیں ہوئی۔چنانچہ وہ مطلوبہ رقم انہوں نے سیکرٹری تحریک جدید کو دے دی۔اور کہتے ہیں گھر آکر بیٹھا ہی تھا کہ ایک جگہ سے ایک لفافہ آیا۔کسی کا خط تھا اور اس میں چیک تھا اور عین اس رقم کے برابر چیک تھا جو میں نے دی تھی۔اور اس شخص نے لکھا تھا کہ فلاں وقت میں نے آپ سے قرض لیا تھا میں بھول گیا اور ان کو بھی بھول گیا تھا۔آج مجھے یاد آیا تو میں وہ قرض واپس کر رہا ہوں۔اور معذرت کے ساتھ واپس کرتا ہوں۔پھر اسی طرح ایک اور جگہ سے فوری طور پر رقم آگئی۔گویا اللہ تعالیٰ نے فوری حساب نہ صرف برابر کر دیا بلکہ بڑھا کر دے دیا۔خدا تعالیٰ اس طرح قربانی کرنے والوں کو اجر دیتا ہے کہ چند گھنٹوں کے لئے بھی اس خوف میں نہیں رکھا کہ اگلے سال کے چندے کا انتظام کس طرح ہو گا۔پس ایک یہ بھی مطلب ہے وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَاهُمْ يَحْزَنُونَ کا کہ ان پر کوئی خوف اور غم نہیں ہوتا۔دنیا میں بھی ایسے اجر ملنے شروع ہو جاتے ہیں کہ ان کے ہر خوف اور غم خوشی میں بدلنا شروع ہو جاتے ہیں۔لیکن شرط یہ ہے کہ خالص ہو کر خدا تعالیٰ کی خاطر قربانی ہو اور قربانی کے بعد کبھی یہ احساس نہ ہو کہ ہم نے جماعت پر کوئی احسان کیا ہے۔سادہ زندگی جب حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے تحریک جدید شروع فرمائی تو سادہ زندگی کا مطالبہ کیا تھا۔اس زمانے میں آپ نے کھانوں، کپڑوں وغیر ہ اور دوسرے اخراجات میں کمی کر کے چندہ تحریک جدید دینے کا مطالبہ فرمایا تھا۔اُس وقت افراد جماعت کے حالات بھی ایسے نہیں تھے جیسے اللہ تعالیٰ کے فضل سے آج کل ہیں۔لیکن مردوں، عورتوں بچوں نے قربانیاں دیں اور خوشی سے دیں۔آج بھی بعض غریب گھروں میں ایسے نظارے نظر آتے ہیں لیکن پھر بھی کوئی احسان نہیں ہے۔فکر ہوتی ہے تو یہ کہ ہمارے پاس اور ہو تو ہم اور دیں۔اور ان قربانی کرنے والوں کی اولا دوں کو پھر اللہ تعالیٰ نے نوازا ہے اور نواز رہا ہے۔پس ایک مومن تو جب اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے نظارے دیکھتا