خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 519
خطبات مسرور جلد ہشتم 519 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 8 اکتوبر 2010 وجہ سے ہیں جو ہمارے آقا صلی علیکم نے ہمارے سامنے پیش فرمایا۔اور جس کی خدا تعالیٰ نے ہمیں ہدایت فرمائی کہ یہی وہ میرا پیارا رسول صلی الی نام ہے جس کے اُسوہ پر چلنا خدا تعالیٰ نے تمہارے لئے فرض قرار دے دیا ہے۔اور جو اُسوہ اس محسن انسانیت اور رحمتہ للعالمین نے پیش کیا وہ یہ ہے کہ اپنے دکھوں کو بھول کر انسانیت کی خدمت کرو۔کسی اجر کے لئے نہیں بلکہ احسان کے جذبات کے تحت، پیار کے جذبات کے تحت ایتاء ذِي الْقُرْبی کے جذبات کے تحت کہ تمہارے ہم وطن بھی تمہارے قرابت دار ہیں۔دکھ تو اگر غیروں کو بھی پہنچے تو جو نیک فطرت لوگ ہیں ان کو تکلیف ہوتی ہے، بے چین ہو جاتے ہیں۔تو یہ تو ہمارے اپنے ہیں اور جو ہمارے اپنوں کو دکھ اور مصیبت اور تکلیف پہنچے تو یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ وہ ہمیں بے چین نہ کرے۔پس ہمیں علو اور فساد سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ہم تو عاجزی اور پیار اور محبت کو پھیلانے والے ہیں۔ہم تو اس نبی کے ماننے والے ہیں جو دنیا کو خدا سے دور دیکھ کر بے چین ہو جاتا تھا کہ یہ اس وجہ سے اللہ تعالیٰ کی پکڑ کے سزاوار نہ ٹھہر جائیں۔جو اپنی راتیں اس غم میں ہلکان کرتا تھا کہ لوگ خدا کو بھول کر تباہی کے گڑھے میں گر رہے ہیں۔جس کے اس درد کو دیکھ کر خدا تعالیٰ نے بھی آپ صلی یی کم کو فرمایا تھا کہ لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ (الشعراء:4) شاید تو اپنی جان کو ہلاکت میں ڈال لے گا کہ کیوں ایمان نہیں لاتے۔پس ہمیں اپنے آقا و مولیٰ کی اُمت سے منسوب ہونے والوں سے ہمدردی ہے۔اس وہ بات کا درد ہے اور اس کے لئے ہماری کوشش ہے کہ یہ لوگ آپ کے پیغام کو سمجھ کر آپ کے مسیح و مہدی کو مان لیں تاکہ اس دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ کی آفات اور عذاب سے بچ جائیں اور اگلے جہان میں بھی اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے بچ جائیں۔گزشتہ کئی سالوں سے میں مختلف وقتوں میں خطبات میں بھی، تقریروں میں بھی بتارہاہوں کہ زلازل اور طوفان اور آفات گزشتہ ایک سو سال سے شدت اختیار کر گئے ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے کی تائید کا ثبوت ہیں کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بڑا واضح فرمایا ہے کہ خدا تعالیٰ نے مجھے بتایا ہے کہ یہ زلازل اور آفات اور طوفان میری تائید میں آئیں گے۔آپ کی زندگی میں بھی آئے اور آج تک یہ الہی تائیدات کا دور چلتا چلا جارہا ہے۔باقی دنیا کی طرح پاکستان میں بھی ان آفات سے جو نقصان ہو رہا ہے وہ ظاہر وباہر ہے۔بلکہ اقوام متحدہ کے صدر جو دورے پر وہاں گئے تھے ان کی ایک رپورٹ کے مطابق حالیہ سیلاب کی تباہی کئی سونامیوں سے بڑھ کر ہے۔ہر احمدی جانتا ہے کہ یہ آسمانی اور زمینی آفات جو دنیا میں آرہی ہیں اور ہو رہی ہیں مسیح موعود کی تائید میں ہیں۔کاش کہ دنیا اس کو سمجھ جائے۔یہ عذاب جو دنیا میں آتے ہیں یہ ہمیں بے چین بھی کر دیتے ہیں کہ اگر دنیا نے خدا تعالیٰ کے اشاروں کو نہ سمجھا تو بڑی تباہی بھی آسکتی ہے۔اور اس بے چینی میں پھر ہمارا رخ اپنے پیدا کرنے والے خدا کی طرف ہوتا ہے۔اپنے اللہ کی طرف ہوتا ہے جو دنیا کی اصلاح کے لئے اپنے پیاروں کو مبعوث فرماتا ہے۔دنیا کو بچانے کے لئے اپنے فرستادوں کو بھیجتا ہے۔