خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 518 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 518

خطبات مسرور جلد ہشتم 518 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 8 اکتوبر 2010 کرتے رہنا ہے۔اس ملک کو اب اس خوفناک صورتحال سے اگر کوئی چیز بچاسکتی ہے تو وہ احمدیوں کی دعائیں ہی ہیں۔بیرونی دنیا کا محاذ بھی پاکستان کے خلاف سخت سے سخت تر ہو تا چلا جارہا ہے اور اندرونی طور پر بھی فتنہ وفساد، دہشت گردی اور قومی املاک اور وسائل کو آگئیں لگا کر تباہ کر کے ملک کو کمزور تر کیا جارہا ہے۔یہ کون سی حب الوطنی ہے جس کو ہم ان شدت پسند تنظیموں کے رویے سے دیکھ رہے ہیں، ان کے عمل سے دیکھ رہے ہیں؟ احمدی۔پاکستان کے مظلوم ترین شہری بے شک اس وقت ہم یعنی احمدی پاکستان کے مظلوم ترین شہری ہیں جن کے ہر قسم کے حقوق غصب کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔سیاست اور حکومت سے تو ہمارا کوئی لینا دینا نہیں، کوئی واسطہ نہیں۔یہ تو ان دنیا داروں کی کم عقلی ہے اور وہم ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ جماعت احمد یہ کیونکہ ایک منظم تنظیم ہے اس لئے شاید حکومت پر ایک وقت میں قبضہ کرنا چاہے گی۔ہمیں نہ تو پاکستان کے حکومتی معاملات سے کوئی دلچسپی ہے اور نہ ہی دنیا کی کسی بھی ملک کی حکومت سے۔ہاں کسی ملک کا شہری ہونے کی حیثیت سے ہم ملک سے وفا اور محبت کا تعلق بھی رکھتے ہیں۔اور ہر ملک کے احمدی کو اپنے ملک کو دنیا کے ملکوں میں نمایاں طور پر دیکھنے کی خواہش بھی ہے۔اور اس کے لئے وہ کوشش بھی کرتا ہے اور دعا بھی کرتا ہے اور کرنی چاہئے۔اور ایک احمدی اپنی ذاتی حیثیت سے کسی بھی ملک کی سیاست میں یا کسی سیاسی پارٹی کے ساتھ بجڑ کر سیاست میں حصہ بھی لیتا ہے۔دنیا کے کئی ملک ہیں جہاں احمدی اگر حکومتی پارٹی میں شامل ہو کر ملک کی بہتری کے لئے کردار ادا کر رہے ہیں تو غیر حکومتی یا حزب مخالف پارٹی جو ہے اس میں بھی شامل ہو کر ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا کر دار ادا کر رہے ہیں۔پس ہر احمدی کی ملک کے شہری کی حیثیت سے تو ملک کے سیاسی معاملات میں دلچسپی ہے، ہو سکتی ہے اور ہونی چاہئے۔لیکن جماعت احمدیہ کو بحیثیت جماعت یا خلافتِ احمدیہ کو کسی حکومت، کسی ملک کی حکومت پر قبضہ کرنے میں نہ کوئی دلچسپی ہے اور نہ یہ ہمارا مقصد ہے۔کیونکہ ہمیں آنحضرت صلی اللہ نیم کے عاشق صادق نے جو راہ دکھلائی ہے وہ مادی ملکوں کے حاصل کرنے کے لئے نہیں ہے بلکہ روحانی بادشاہت کے حصول کے لئے ہے۔اور اللہ تعالیٰ کی رضا کا تاج ہے جس کا حصول ہمارا مقصود ہے۔ہاں جب بھی کسی بھی حکومتِ وقت کو ملک کی تعمیر و ترقی اور بقاء کے لئے مشوروں کی اور قربانیوں کی ضرورت ہوئی تو جماعت احمدیہ نے حصہ لیا اور حصہ لیتی ہے۔پس ہم احمدی تو وہ ہیں جو پاکستان میں انفرادی طور پر بھی اور من حیث الجماعت بھی تمام قسم کے ظلم سہنے کے باوجود اپنے ہم وطنوں اور اپنے ملک کو پریشانی اور مشکل کی حالت میں دیکھتے ہیں تو بے چین ہو جاتے ہیں۔ہماری بے چینی حکومتوں کے لئے نہیں، ہماری بے چینی ملک کی بقا کے لئے ہے۔ہماری بے چینی ملک کے عوام کے لئے ہے۔اور ہم یہ کوشش کرتے ہیں بلکہ جہاں تک وسائل اجازت دیتے ہیں دنیا میں پھر کر بھی ملک کو کسی بھی قسم کی مشکل سے نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔اور یہ عمل ہماری اس تعلیم کی وجہ سے ہیں جو ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفی صلی الی یکم نے ہمیں دی ہے۔یہ عمل ہمارے اس اُسوہ پر چلنے کی کوشش کی