خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 520 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 520

خطبات مسرور جلد ہشتم 520 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 8 اکتوبر 2010 پاکستانی اخباروں اور میڈیا میں بھی یہ شور ہے کہ یہ خدائی عذاب ہے یا کیا ہے؟ ان کے دینی رہنما کہتے ہیں کہ یہ عذاب نہیں ہو سکتا کیونکہ عذاب خدا تعالیٰ کے نبیوں کے ساتھ آتا ہے۔مگر خدا کے لئے ہماری بات بھی سنو۔مسیح موعود کی بات بھی سنو۔خدا تعالیٰ کے مسیح کا پیغام گزشتہ سو سال سے تمہیں ہوشیار کر رہا ہے۔ہر آفت جو دنیا میں آتی ہے ہمیں بے چین کرتی ہے کہ یہ آئندہ کسی بڑی آفت کا پیش خیمہ نہ ہو۔جماعت احمد یہ اور وطن کی خدمت جہاں تک آفات میں جماعت احمدیہ کا اہل وطن کی خدمت کا سوال ہے ، جیسا کہ میں نے کہا ہم ہر طرح مدد کرتے ہیں، ان حالیہ سیلابوں کی تباہ کاریوں میں بھی جماعت احمدیہ نے مختلف ممالک میں پاکستانی سفارتکاروں کے ذریعہ سے انفرادی بھی اور جماعتی طور پر بھی رقمیں اکٹھی کر کے بھیجی ہیں۔ملک کے اندر بھی، پاکستان میں بھی مخیر حضرات نے ،احباب جماعت نے رقم کے ذریعہ بھی، سامان کے ذریعے بھی مدد کی ہے۔اور ہمارےvolunteers نے بھی لوگوں کو نکالنے میں، محفوظ مقامات پر پہنچانے میں، خوراک مہیا کرنے میں کام کیا ہے۔بلکہ ایک موقع پر ہماری ٹیموں کا ایدھی صاحب جو وہاں کا بہت بڑا ٹرسٹ چلاتے ہیں، ان سے سامنا ہو گیا۔ان سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ میں نے دیکھا ہے کہ قادیانی مدد کے لئے سب سے پہلے پہنچتے ہیں۔اگر ہماری ٹیموں نے احمدیوں کو سیلاب میں گھرے ہوئے علاقوں سے نکالا ہے تو غیر از جماعت کی بھی بلا تفریق مذہب، عقیدہ، فرقہ خدمت کی ہے۔پھر Humanity First کے ذریعے سے بھی خدمت کی ہے اور ہو رہی ہے۔اور اب Humanity First نے ان سیلاب زدہ علاقوں کے لئے ایک ملین ڈالر مزید امداد کے لئے ارادہ کیا ہے۔وہاں بحالی کے جو کام ہیں اس میں مدد دے گی۔اور بلا تخصیص مذہب ہم یہ خدمت کر رہے ہیں اور کرتے رہے ہیں۔اور پھر ہم یہ بھی نہیں بتاتے کہ ہم احمدی ہیں۔خاموشی سے خدمت کر رہے ہیں اس لئے کہ کہیں کوئی فتند پردازفتنہ نہ کھڑا کر دے اور اس فتنہ کی وجہ سے غریبوں کو مدد لینے سے محروم کر دے۔لیکن ان نام نہاد مذہب کے ٹھیکے داروں کا رویہ کیا ہے؟ جو اپنے آپ کو اسلام کا نمائندہ سمجھتے ہیں ان کا رویہ کیا ہے؟ ایک جگہ جب پتہ چلا کہ وہاں دریا کے علاقہ کے کچھ خاندان جو ڈیرہ غازی خان کے ریموٹ علاقہ میں رہتے تھے۔وہ وہاں سے جو دریا کے قریب ہو گا اٹھ کے آئے۔بہر حال جب سیلاب آیا تو احمدی بھی متاثر ہوئے تو جو خاندان وہاں سے اٹھ کے آئے ان لوگوں کو جب یہ پتہ لگا تو ان احمدی خاندانوں کو انہوں نے خوراک وغیرہ تو کیا دینی تھی، وہ تو ہم نے خود ہی انتظام کر دیا تھا، جو سکول میں shelter ملا ہو اتھا وہاں سے بھی ان لوگوں کو نکال دیا گیا کہ یہ قادیانی ہیں یہاں نہیں رہ سکتے۔جہاں تک احمدیوں کا سوال ہے ہر احمدی کو اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت نے سنبھالا ہے اور جماعت ان