خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 502
خطبات مسرور جلد ہشتم 502 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 ستمبر 2010 فضلوں کا وارث بنتے چلے جاتے ہیں۔وہ اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آتے چلے جاتے ہیں۔ان کی قربانیاں اللہ تعالی کے حضور قبولیت کا درجہ پاتی ہیں۔دشمنوں کی خوفزدہ کرنے کی کوشش مومنوں کو بجائے خوفزدہ کرنے کے اللہ تعالیٰ کا قرب دلانے کا باعث بنتی ہیں۔نَحْنُ اَولیولم في الحيوةِ الدُّنْيَا وَ في الْآخِرَةِ (حم السجدۃ:32) کہ ہم دنیا میں بھی تمہارے ساتھ ہیں اور آخرت میں بھی تمہارے ساتھ ہیں۔اس پر یقین بڑھتا چلا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی ذات پر یہ یقین ہی تھا جس نے مسیح موسوی کے ماننے والوں کو قربانیوں پر آمادہ کیا۔ہمارے ساتھ تو خدا تعالیٰ کے ان سے بڑھ کر وعدے ہیں۔پس کوئی وجہ نہیں کہ ہم خدا تعالیٰ سے کبھی بھی بے وفائی کا اظہار کریں یا یہ سوچیں کہ اس کی عبادتوں سے کبھی غافل ہوں، توحید کے قیام کے لئے کوشش سے کبھی غافل ہوں۔احمدی نوجوانوں کا جذبہ جیسا کہ میں نے کہا پاکستان اور بعض دوسرے ملکوں میں مسیح محمدی کے ماننے والوں کا ایک گروہ تو صبر اور دعا کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے ثبات قدم استقامت اور رُشد و ہدایت مانگ رہا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایمان اور ایقان میں اور ہدایت میں ترقی بھی کر رہا ہے۔اللہ تعالیٰ اس گروہ کی دعاؤں کو سن بھی رہا ہے۔ان کے ایمانوں کی مضبوطی اور شیطانی حملوں کا مقابلہ اور بے خوفی اس بات کا ثبوت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعاؤں کو سنتے ہوئے ان کے دلوں کو تقویت بخشی ہے۔وہ نوجوان بھی جو ابھی نوجوانی میں قدم رکھنے والے ہیں اور بڑی عمر کے جوان بھی، یہ تمام خدام بڑے جذبے اور شوق سے اور بغیر کسی خوف کے پاکستان میں اپنی جماعتی طور پر جو بھی ڈیوٹیاں لگائی جاتی ہیں یا جو فرائض دیئے جاتے ہیں ان کو ادا کر رہے ہیں۔بعض بزرگ مجھے لکھتے ہیں کہ ان نوجوانوں کے جذبے کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔آج کل پاکستان میں جماعت احمدیہ کی مساجد خاص طور پر انتظامیہ کی طرف سے اور پولیس کی طرف سے بڑی خطر ناک جگہیں قرار دی گئی ہیں۔لیکن وہاں ہمارے نوجوان ڈیوٹیوں پر جاتے ہیں تو لکھنے والے لکھتے ہیں کہ اگر کسی وجہ سے ایک خادم ڈیوٹی پر نہ آسکے تو یہ نہیں کہ وہاں نوجوانوں کی کمی ہو جاتی ہے ، دو دو تین تین اس کی جگہ تیار ہوتے ہیں اور کوشش کر رہے ہوتے ہیں کہ جو متبادل لینا ہے وہ ہمیں لیا جائے۔گھر سے یہ کہہ کر جاتے ہیں کہ اگر ہم واپس آگئے تو ٹھیک ہے الحمد للہ اور اگر نہ آسکے تو اللہ تعالیٰ اپنے وعدے ہمارے حق میں پورے فرمائے۔یہ ایمان ہے جو ان کے دلوں میں قائم ہو رہا ہے۔ایک عجیب جذبہ ہے جو مسیح محمدی کے یہ غلام دکھا رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کے جذبوں کو جہاں ہمیشہ زندہ رکھے وہاں اپنے خاص فضل سے ان کی حفاظت بھی فرما تار ہے۔آج مسیح محمدی کے ماننے والے نوجوان بھی ایک عجیب تاریخ رقم کر رہے ہیں۔یہ بھی وہ نوجوان ہیں جو اپنے عہدوں کی پابندی اور توحید کے قیام کے لئے کسی سے پیچھے نہیں۔حقیقت میں یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی جان ،مال، وقت اور عزت کی قربانی کے لئے ہر وقت تیار بیٹھے ہیں۔یقیناً یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے والے