خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 503 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 503

خطبات مسرور جلد ہشتم 503 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 24 ستمبر 2010 ہیں۔پس تقویٰ پر قدم مارتے ہوئے اور عبادتوں کے معیار بڑھاتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کو پہلے سے بڑھ کر حاصل کرتے چلے جائیں۔آج خدام الاحمدیہ کا اجتماع ہے تو آپ لوگ جو میرے سامنے یہاں بیٹھے ہیں یا اجتماع گاہ میں بیٹھے ہیں اور میرے براہ راست مخاطب ہیں، جن کو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اجتماعات کرنے کی بھی آزادی ہے اور اپنی مرضی سے جو پروگرام بھی ترتیب دینا چاہیں اس پر عمل کرنے کی بھی آزادی ہے۔جن کو تربیتی پروگرام بنانے کی آزادی بھی ہے اور جن کو تبلیغ کے پروگرام بنانے کی آزادی بھی ہے۔آپ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں۔صرف اجتماع کے یہ تین دن ہی آپ میں عارضی تبدیلی کا باعث نہ بنیں بلکہ ایک مستقل تبدیلی اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کریں۔تقویٰ کے معیار بڑھائیں۔عبادتوں کے معیار بڑھائیں۔مغرب کی بیہودہ کشش آپ کو اپنی طرف راغب کرنے والی نہ بن جائے۔اپنے ان بھائیوں کی قربانیوں کو ہمیشہ سامنے رکھیں جو اپنے ایمانوں میں مضبوطی پیدا کرتے ہوئے احمدیت یعنی حقیقی اسلام کے جھنڈے کو بلند رکھنے کے لئے ہر کوشش کر رہے ہیں۔اپنی وفاؤں اور اپنے عہدوں کو پورا کرنے کے لئے ہر قربانی دے رہے ہیں۔احمدی نوجوانوں کا کردار پس آپ اس آزادی کے شکرانے کے طور پر جہاں اپنی عبادتوں اور تقویٰ کے معیار کو بلند کریں وہاں احمدیت کا پیغام ہر جگہ پہنچانے کے لئے بھر پور کردار بھی ادا کریں۔ہر ذریعہ تبلیغ کو استعمال کرنے کی کوشش کریں۔جدید ذرائع کا استعمال نوجوان زیادہ بہتر طور پر کر سکتے ہیں۔آج کل احمدی نوجوانوں نے دوطرفہ محاذوں پر اپنا کر دار ادا کرنا ہے، یعنی بیر ونی محاذ جو ہے اس کی دو قسمیں ہیں۔نفس کی اصلاح جو اندرونی محاذ ہے وہ تو ہے ہی، اس کے علاوہ بیرونی محاذ بھی دو طرح کے ہیں۔ایک طرف تو اسلام کے خلاف مہم میں حصہ لے کر اسلام کا دفاع کرنا ہے اور دوسرے احمدیت کے خلاف جو حملے ہیں ان میں دفاع کرنا ہے۔مختلف ویب سائٹس ہیں ان میں مختلف قسم کے بیہودہ قسم کے اعتراضات آتے ہیں، ان کو سچائی کے پیغام سے بھر دیں۔ایک ایسا منظم لائحہ عمل تیار کیا جائے کہ ان سب ویب سائٹس کو اپنی سچائی کے پیغام سے بھر دیں۔اگر علم میں کمی ہے تو اپنے بڑوں اور مبلغین سے مدد لیں۔آج دنیا میں رہنے والے ہر خادم کو ان مہمات کا حصہ بننے کی ضرورت ہے۔تبھی توحید کے قیام میں حقیقی کردار ادا کر سکیں گے۔مسیح موسوی کے نوجوان تو محدود علاقوں میں اپنا کر دار ادا کرتے رہے۔مسیح محمدی کے خدام تو نئے ذرائع کے ذریعے سے تمام دنیا میں ایک انقلاب پیدا کر سکتے ہیں۔پس اس بات پر خاص توجہ دیں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔آخر میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک اقتباس بھی آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔آپ فرماتے ہیں۔