خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 501
501 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 24 ستمبر 2010 خطبات مسرور جلد ہشتم کہا صرف اجتماع کے دنوں میں نہیں بلکہ عام دنوں میں بھی۔جب ہماری ترقی اور فتوحات دعاؤں سے ہی وابستہ ہیں جس کے لئے بار بار حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں توجہ دلائی ہے تو پھر دعاؤں کا جو بہترین ذریعہ قیام نماز ہے، اس کی طرف توجہ دینے کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔توحید کے قیام کی کوشش اور اللہ تعالیٰ کو ہی معبودِ حقیقی سمجھنا ایک مسلمان کا یہی مقصد ہے۔اور توحید کا قیام اور اللہ تعالیٰ کو معبودِ حقیقی سمجھنا بغیر نمازوں کی ادائیگی کے اور اس کے قیام کے ممکن ہو ہی نہیں سکتا۔پانچ وقت کی نمازیں ہی ہیں جو ایک مومن کے بہت سے متوقع بتوں کو توڑنے کا باعث بنتی ہیں۔اور خاص طور پر اس مادی دنیا میں تو یہ پانچ وقت کی نمازیں ہی ہیں جو توحید کے قیام کا باعث بنتی ہیں۔ہمارے نفس کے اندر کے بتوں کو بھی توڑتی ہیں۔اور ہمارے ظاہری اسباب کے بتوں کو بھی توڑتی ہیں۔پس توحید کو قائم کرنے اور پھیلانے کے لئے یہ ایک بنیادی نسخہ ہے جسے ہمیشہ ہمیں یاد رکھنا چاہئے۔پھر فرمایا وَمِنَا رَزَقْنُهُم يُنفِقُونَ۔اور جو کچھ انہیں ہم نے دیا ہے اس میں سے وہ خرچ کرتے ہیں۔دین کی اشاعت اور توحید کے قیام کے لئے خرچ کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ ایمان میں بڑھاتا ہے۔پس مالی قربانیوں کی جو جماعت میں تحریک کی جاتی ہے وہ بھی اللہ تعالیٰ کے اس حکم کے تحت ہی ہے۔پھر آخری آیت جو میں نے پڑھی ہے جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ پہلی دو آیات میں بیان کردہ خصوصیات کا جو حامل ہے وہی اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں حقیقی مومن ہے اور جو اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں حقیقی مومن ٹھہر جائے وہ اللہ تعالیٰ کے حضور اس کے انعامات کا وارث بنتا ہے اور وہ انعامات یہ ہیں کہ درجتُ عِندَ رَبِّهِمْ کہ ان کے رب کے پاس ان کے لئے بڑے بڑے درجے ہیں۔مَغْفِرَةٌ، اس کے گناہوں کی بخشش ہے اور رزقی گریم ، اور معزز رزق ہے۔یہ رزق اس دنیا کا بھی ہے اور آخرت کا بھی۔پس ایمان میں زیادتی، ہدایت میں زیادتی اللہ تعالیٰ کے انعامات کا وارث بناتی ہے۔اور ایک مومن کا کام ہے کہ ایمان اور ہدایت میں زیادتی کے لئے اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کی کوشش میں ہر وقت لگا رہے۔اور یہی حقیقی تقویٰ ہے جو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والا حاصل کرتا ہے۔یعنی تقویٰ سے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی طرف قدم بڑھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے سے تقویٰ میں ترقی ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ ایک جگہ فرماتا ہے کہ : وَالَّذِيْنَ اهْتَدَوا زَادَهُمْ هُدًى وَانهُم تَقُوبُهُمْ (محمد : 18) اور وہ لوگ جنہوں نے ہدایت پائی ان کو اس نے ہدایت میں بڑھا دیا اور ان کو ان کا تقویٰ عطا کیا۔پس اتهُم تَقُوبُهُمْ ان کو ان کا تقویٰ عطا کیا یعنی اللہ تعالیٰ کی رضا کے معیار بڑھنے کے ساتھ ساتھ تقویٰ بھی بڑھتا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو جو اس کی طرف بڑھتے اور اس کی رضا کے طالب اور اس کے لئے کوشاں ہوتے ہیں انہیں نئے نئے راستے سکھاتا ہے جس کے حاصل کرنے سے ان کے تقویٰ کے معیار بڑھتے چلے جاتے ہیں۔اور پھر یہ بھی کہ اللہ اپنی رضا اور فضلوں کی چادر میں ایسے مومنوں کو لپیٹتا جاتا ہے۔وہ پہلے سے زیادہ