خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 500 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 500

خطبات مسرور جلد ہشتم 500 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 24 ستمبر 2010 اللہ تعالیٰ نے یہاں ایک حقیقی مومن کی نشانیاں بیان فرمائی ہیں۔جو ایمان کا دعوی کرتا ہے وہ صرف زبانی دعویٰ سے مومن نہیں بن جاتا۔اس کی کچھ خصوصیات بھی ہوتی ہیں۔وہ ابتلاؤں میں بھی اپنے ایمان کی حفاظت کرتا ہے اور کشائش میں بھی اپنی ایمانی حالت کی حفاظت کرتا ہے۔اور جب یہ ہو تو وہ ان وعدوں سے حصہ لینے والا بن جاتا ہے ، اُن وعدوں کا حق دار ٹھہرتا ہے جو ایک حقیقی مومن سے خدا تعالیٰ نے فرمائے ہیں۔اگر یہ دعویٰ ایک شخص کا، ایک مومن کا ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ پر ایمان ہے تو اس کا ہر قول و فعل خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ہونا چاہئے۔اللہ تعالیٰ کا نام صرف منہ پر یا زبان پر ہی نہ ہو بلکہ دل میں خدا تعالیٰ کی خشیت ہو۔فرمایا کہ ایمان کی نشانی یہ ہے کہ اِذَا ذُكِرَ اللهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ کہ جب اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں۔اور اللہ تعالیٰ ایک مومن کے لئے وہ محبوب ہستی ہے جس کی رضا ہر وقت اس کے پیش نظر رہتی ہے اور رہنی چاہئے۔اور رضا کس طرح حاصل ہوتی ہے ؟ اس کے احکامات پر عمل کر کے۔پس ایمان صرف زبانی دعوی نہیں ہے بلکہ ایک عمل ہے جو مسلسل جاری رہنا چاہئے۔پھر یہ نشانی ہے کہ آیات اسے ایمان میں بڑھاتی ہیں۔یہ بہانے نہیں ہوتے کہ یہ باتیں مشکل ہیں اور ان پر عمل مشکل ہے یا یہ عمل تو میں کر لوں اور یہ نہ کروں ، یا کر نہیں سکوں گا۔بلکہ اللہ تعالیٰ کے تمام احکامات پر کان دھرنا اور ان پر عمل کرنا، ان کو سننا، یہی ایک اصل مومن کی نشانی ہے۔اس بات کو دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے یوں بھی بیان فرمایا ہے کہ اِذَا ذُكِّرُوا بِأَيْتِ رَبِّهِمْ لَمْ يَخِرُّوا عَلَيْهَا صُئًا وَ عُميَانًا (الفرقان: 74) کہ جن کا ایمان حقیقی ہوتا ہے جب ان کے رب کی آیات انہیں یاد دلائی جاتی ہیں تو ان سے بہروں اور اندھوں کا معاملہ نہیں کرتے۔پس زبانی دعویٰ کہ میں توحید پر یقین رکھتا ہوں، ایمان میں زیادتی کا باعث نہیں بنتا جب تک کہ اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے کی کوشش بھی نہ ہو۔پس توحید کے قیام کی کوشش اس وقت کامیاب ہوتی ہے جب خدا تعالیٰ کی رضا کی خاطر انسان اپنے نفس کو قربان کرتا ہے اور جب ہر معاملہ میں کامل توکل اللہ تعالیٰ کی ذات پر ہوتا ہے۔نمازوں کا قیام پھر یہ آیات جو میں نے پڑھی ہیں ان میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حقیقی مومن کی ایک نشانی نمازوں کا قیام ہے۔اب اجتماعات میں اور ان کے بعد بھی ہر خادم کو ، ہر احمدی کو ، اس کا خاص اہتمام کرنا ضروری ہے۔اجتماعوں میں تو خاص طور پر کہ نمازیں باجماعت ادا ہوں اور اس کے بعد بھی عام طور پر نمازوں کا قیام اور باجماعت ادا کرنا اور وقت پر ادا کرنا یہ بھی ضروری ہے۔اسی طرح کچھ خدام جو ڈیوٹی والے یا اجتماعات میں شامل ہونے والے ہوتے ہیں ان کو چاہئے کہ وہ بھی اپنی نمازوں کا اہتمام کریں۔ڈیوٹی کے بہانہ سے نمازیں ضائع نہ ہوں۔اور پھر جیسا کہ میں نے