خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 485
485 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 ستمبر 2010 خطبات مسرور جلد ہشتم کے ماننے والوں کو ایک مسجد بنانے کی انشاء اللہ تعالیٰ توفیق مل رہی ہے تاکہ وحدانیت کا اعلان اس علاقہ سے بھی دنیا کو پہنچے۔اور مساجد بنانے کا یہی ہمارا مقصد ہے کہ جہاں ہم اپنے دلوں کو پاک کرتے ہوئے اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کا عبادت گزار بندہ بناتے ہوئے، مساجد میں پانچ وقت جمع ہو کر اس کے آگے جھکیں اور اس کی عبادت کریں وہاں توحید کا پیغام بھی اس ذریعہ سے بھی دنیا کو پہنچائیں۔لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ کی صدا بلند کرتے ہوئے یہ پیغام دنیا کو پہنچائیں۔اور دنیا کے ہر کونے سے جب یہ صدا بلند ہو کر عرش پر پہنچے تو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والوں میں ہمارا بھی شمار ہو۔اللہ تعالیٰ نے مسیح محمدی کو اسی لئے دنیا میں بھیجا ہے۔پہلے انبیاء نے اور آنحضرت صلی علیکم نے اپنے بعد عاشق صادق کے آنے کی جو خبر دی تھی تو اس کا یہی کام اور مقصد تھا کہ وہ اللہ اکبر کا نعرہ دنیا میں لگائے اور لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ کا پیغام دنیا کو دے کر انہیں ایک ہاتھ پر جمع کر کے اللہ تعالیٰ کے حضور جھکنے والا بنا دے۔اور اللہ تعالیٰ کے پیارے رسول حضرت محمد مصطفی صلی ایم کی غلامی میں لا ڈالے۔اس کے علاوہ تو اور کوئی پیغام نہیں ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام لے کر آئے تھے۔اللہ تعالیٰ نے جب آپ کو الہاما یہ خوشخبری دے کر وعدہ فرمایا تھا کہ میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا تو اس سے مراد اسی پیغام کی تبلیغ تھی جو اللہ تعالیٰ کے پیارے اور آخری رسول خاتم الانبیاء فخر الرسل حضرت محمد مصطفی صلی ا لم لے کر آئے تھے۔جس نے شریعت کو کامل کیا تھا اور جس نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی انتہا سے دنیا کو ، اس دنیا کو جو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی تلاش میں تھی، اس سے فیضیاب کیا تھا۔پس جب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ”میں تیری تبلیغ کو دنیا کے کناروں تک پہنچاؤں گا تو اس سے مراد یہ پیغام ہے جس کے دنیا میں پھیلانے کے لئے آپ کو اس قدر فکر اور تردد تھا کہ آپ علیہ السلام نے اپنے آقا کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنی جان ہلکان کی ہوئی تھی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس دین نے دنیا میں غالب آنا ہے ، وہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ سلم کا لایا ہوا دین ہے۔اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کے نظارے اور اے مسیح محمدی! تجھے میں نے اس دین کے غلبہ کے لئے ایک ذریعہ بنا کر کھڑا کیا ہے۔پس اب یہ میر اوعدہ ہے اور یہی تقدیر ہے کہ اسلام نے ہی دنیا میں آخری فتح دیکھنی ہے۔تو پھر تو اپنی کمزوری ، اپنے وسائل کی کمی اور راستے کی بے شمار روکوں کی وجہ سے پریشان نہ ہو۔اے مسیح محمدی ! میں نے جو کام تیرے سپرد کیا ہے یہ صرف تیرا کام ہی نہیں ہے بلکہ یہ تقدیر الہی ہے، اور جب یہ تقدیر الہی ہے تو پھر میری تائید و نصرت بھی تیرے ساتھ ہے۔پس ان تمام وسائل کی کمیوں، بشری کمزوریوں اور راستے کی بے شمار روکوں کے باوجو د میں تیرے مشن کو جو دراصل میرے اور میرے رسول صلی علیم کے جھنڈے تلے لانے کا مشن ہے، میں اپنی تمام تر قدرتوں کے ساتھ پورا کروں گا۔اور جماعت احمدیہ کی تاریخ گواہ ہے کہ ہر قدم پر اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کے نظارے ہم دیکھتے ہیں اور دیکھ رہے ہیں اور دیکھتے رہے ہیں۔ایم ٹی اے کا ہی ذریعہ لے لیں کس طرح اس ذریعہ سے دنیا میں