خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 486 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 486

خطبات مسرور جلد ہشتم 486 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 ستمبر 2010 احمدیت یعنی حقیقی اسلام کا پیغام پہنچ رہا ہے۔اور جہاں خلیفہ وقت دورہ پر جائے، پھر وہاں سے ہی دنیا میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلیفہ کی آواز اس ذریعہ سے پہنچ رہی ہے۔اور پھر جیسا کہ میں نے کہا، پہلے بھی میں نجی میں اور بعض اور جگہوں پر اس کا ذکر کر چکا ہوں کہ ان کناروں سے مسیح محمدی کا پیغام آپ کے خلیفہ کے ذریعے دنیا کے کناروں تک پہنچ رہا ہے۔گویا دنیا کے کناروں سے دنیا کے مرکز اور خشکی اور تری اور پھر تمام کناروں تک یہ پیغام پہنچ رہا ہے۔پس یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی سچائی کی کتنی بڑی دلیل ہے اور آپ کے ساتھ خدا تعالیٰ کی تائید و نصرت کے وعدے پورے ہونے کی دلیل ہے اگر کوئی دیکھنے والی نظر ہو تو دیکھے۔آج یہاں سے نشر ہونے والا خطبہ بھی اسی کی ایک کڑی ہے کیونکہ میرے نزدیک جیسا کہ میں نے کہا یہ بھی دنیا کا ایک کنارہ ہے۔پس ہمیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ جو کام اللہ تعالیٰ نے مسیح محمدی کے سپرد کیا ہے وہی کام آپ کے ماننے والوں کے سپر د بھی ہے۔اور ہمیں ہمیشہ اور ہر وقت اس بات کو پیش نظر رکھنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ کے وعدے کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو فکر تھی، بار بار تسلی بھرے الفاظ سے تسلی دلانے کے باوجود ، نہ ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی کوشش میں کمی کی ، نہ ہی آپ نے اپنی دعاؤں میں کمی کی، نہ ہی آپ کی فکر میں کمی ہوئی کہ کہیں ان تمام چیزوں میں کمی کی وجہ سے خدائی وعدے ٹل نہ جائیں۔کہیں کوئی کمزوری خدا تعالیٰ کی ناراضگی کا باعث نہ بن جائے۔اور یہ سب کچھ آپ نے اپنے آقا و مطاع حضرت محمد مصطفی صلی علی نام سے سیکھا تھا۔جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں، پڑھتے ہیں اور کئی بار پڑھ چکے ہیں اور سن چکے ہیں کہ جنگ بدر میں خدا تعالیٰ کے تمام تر وعدوں کے باوجود آنحضرت صلی علیہ کی بے چین ہو ہو جاتے تھے۔دعاؤں اور رقت کی حالت میں ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی صلی اللی کم کا جسم اس قدر جھٹکے لیتا تھا کہ آپ کے کندھے پر پڑی چادر گر گر جاتی تھی۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ بار بار تسلی دیتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے وعدے آپ کے ساتھ ہیں کیا ہوا اگر ہم مٹھی بھر ہیں اور کمزور ہیں تو کیا ہوا، ہمیشہ اللہ تعالیٰ نے ہماری مدد کی ہے، آج بھی کرے گا۔آپ صلی میں کم سے زیادہ اور کون اس بات کو جان سکتا تھا کہ یقیناً خدا تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے اور اللہ تعالیٰ کے وعدے بچے ہیں اور یقینا فتح ہماری ہے لیکن آپ صلی ایم نے حضرت ابو بکر صدیق کی باتوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے حضور گریہ وزاری جاری رک رکھی۔اسی میں مگن رہے اور دعاؤں میں شدت پیدا کرتے چلے گئے اور اللہ تعالیٰ سے آپ یہ دعامانگ رہے تھے کہ کہیں ہماری کسی کمزوری کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے وعدے ٹل نہ جائیں۔پس جہاں اللہ تعالیٰ کے پیارے اس یقین پر قائم ہوتے ہیں اور اس سے پُر ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے وعدے ضرور بالضرور پورے ہوں گے وہاں ان کو یہ فکر بھی ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات بے نیاز ہے ، ہماری طرف سے کوئی ایسی بات نہ ہو جائے جو اللہ تعالیٰ کے وعدوں کو ٹالنے کا باعث بن جائے۔پس یہی رہنما ہے اور یہی اصل ہے جس کو حقیقی متبعین پکڑتے ہیں اور پکڑنا چاہئے۔وہ نہ ہی اپنی الناس الله