خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 466 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 466

خطبات مسرور جلد ہشتم 466 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 ستمبر 2010 نیکی کی محبت ڈال دی۔جیسا کہ وہ فرماتا ہے وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنکبوت: 70)۔یعنی جو لوگ ہماری راہ میں مجاہدہ کرتے ہیں ہم ان کو اپنی راہ دکھا دیا کرتے ہیں“۔چشمه معرفت روحانی خزائن جلد نمبر 23 صفحہ 425) اسی مجاہدہ کی وجہ سے صحابہ کو وہ مقام ملا جس کے بارہ میں حدیث میں آتا ہے حضرت عمر سے روایت ہے کہ میں نے آنحضرت صلی الظلم سے سنا۔حضور نے فرمایا کہ میں نے اپنے صحابہ کے اختلاف کے بارہ میں اللہ تعالیٰ سے سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی کی کہ اے محمد (صلی لیکر تیرے صحابہ کا میرے نزدیک ایسا مر تبہ ہے جیسے آسمان میں ستارے ہیں۔بعض بعض سے روشن تر ہیں۔لیکن نور ہر ایک میں موجود ہے۔پس جس نے تیرے کسی صحابی کی پیروی کی میرے نزدیک وہ ہدایت یافتہ ہو گا۔حضرت عمر (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) نے یہ بھی کہا کہ حضور (صلی ) نے فرمایا کہ میرے صحابہ ستاروں کی طرح ہیں ان میں سے جس کی بھی تم اقتداء کرو گے ہدایت پا جاؤ گے۔(مشکوۃ کتاب المناقب باب مناقب الصحابہ الفصل الثالث حدیث نمبر 6018 دار الکتب العلمیة بیروت ایڈیشن 2003) تو یہ مقام تھا مسلسل کوشش اور جہاد کا، جو صحابہ نے اپنے نفسوں کو پاک کرنے کے لئے کیا۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ اجر دیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہمیں نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : ”اس بیعت کی اصل غرض یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی محبت میں ذوق و شوق پید اہو اور گناہوں سے نفرت پیدا ہو کر اس کی جگہ نیکیاں پیدا ہوں۔جو شخص اس غرض کو ملحوظ نہیں رکھتا اور بیعت کرنے کے بعد اپنے اندر کوئی تبدیلی کرنے کے لئے مجاہدہ اور کوشش نہیں کرتا، جو کوشش کا حق ہے اور پھر اس قدر دعا نہیں کرتا جو دعا کرنے کا حق ہے تو وہ اس اقرار کی جو خدا تعالیٰ کے حضور کیا جاتا ہے سخت بے حرمتی کرتا ہے۔اور وہ سب سے زیادہ گنہگار اور قابل سزا ٹھہرتا ہے۔پس یہ ہر گز نہ سمجھ لینا چاہئے کہ یہ بیعت کا اقرار ہی ہمارے لئے کافی ہے اور ہمیں کوشش نہیں کرنی چاہئے۔مثل مشہور ہے جو کندہ یا بندہ۔جو شخص دروازہ کھٹکھٹاتا ہے اس کے لئے کھولا جاتا ہے۔اور قرآنِ شریف میں بھی فرمایا گیا ہے کہ وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا ( العنكبوت:70) یعنی جو لوگ ہماری طرف آتے ہیں اور ہمارے لئے مجاہدہ کرتے ہیں ہم ان کے واسطے اپنی راہ کھول دیتے ہیں اور صراطِ مستقیم پر چلا دیتے ہیں۔لیکن جو شخص کو شش ہی نہیں کرتاوہ کس طرح اس راہ کو پاسکتا ہے خدایابی اور حقیقی کامیابی اور نجات کا بھی یہی گر اور اصول ہے۔انسان کو چاہئے کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں مجاہدہ کرنے سے تھکے نہیں۔نہ درماندہ ہو اور نہ اس راہ میں کوئی کمزوری ظاہر کرے“۔( ملفوظات جلد چہارم صفحہ نمبر 181,182 مطبوعہ ربوہ )