خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 467
خطبات مسرور جلد ہشتم 467 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 ستمبر 2010 اللہ کرے ہم میں سے ہر ایک اس روح کو سمجھنے والا ہو اور ہماری کوششیں ہر آن آگے بڑھنے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے اپنا عہد پورا کرنے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے کی طرف لے جارہی ہوں۔اپنے عہدوں میں کمزوری دکھا کر اور اپنی کوششوں میں کمی کر کے ہم کبھی اللہ تعالیٰ کے حضور شر مندہ نہ ہوں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اپنا عہد نبھانے اور خدا تعالیٰ کا قرب پانے کی توفیق دیتا چلا جائے۔اور یہ باقی دن ہم خاص طور پر دعاؤں میں پہلے سے بڑھ کر گزارنے والے بنیں۔اللہ تعالیٰ خود ہماری ڈھال بن جائے اور ہمارے دشمنوں کی پکڑ کے سامان فرمائے۔جس شہید کا میں نے ذکر کیا تھا پہلے تو میرا خیال تھا کہ شاید کو ائف نہیں آئے، جنازہ اگلے جمعہ ہو گا۔لیکن کو ائف آگئے ہیں تو ان کا ابھی نماز جمعہ کے بعد انشاء اللہ تعالیٰ ہم جنازہ غائب بھی پڑھیں گے۔جو شہید ہوئے ہیں ان کا نام شیخ عامر رضا صاحب ولد مکرم مشتاق احمد صاحب ہے۔ان کی عمر چالیس سال تھی۔اس وقت بطور سیکرٹری وقف جدید خدمت کی توفیق پارہے تھے۔علاوہ ازیں شہید جو تھے قائد مجلس اور قائد ضلع کے طور پر خدمت کی توفیق پاچکے ہیں۔ان کا اپنا الیکٹرونکس کا بزنس تھا۔مسجد کے اندر تھے ، وہاں جو دھما کہ ہوا ہے وہ اتنا شدید تھا کہ اندر ان کے آ کے دیواریں گری ہیں اور دروازہ اندر آ کے گرا ہے اس کی وجہ سے شدید زخمی بھی ہو گئے۔ہسپتال لے جاتے ہوئے راستے میں شہید ہو گئے تھے۔نہایت مخلص اور محنتی احمدی تھے۔ان کے لواحقین میں ان کی اہلیہ لبنی عامر صاحبہ اور ایک بیٹا اسامہ عامر ، عمر 9 سال اور ایک بچی ڈیڑھ سالہ ہے۔ان کا جنازہ انشاء اللہ تدفین کے لئے ربوہ لے جایا جائے گا۔جیسا کہ میں نے کہا ابھی جمعہ کے بعد ہم جنازہ غائب ادا کریں گے۔الفضل انٹر نیشنل جلد 17 شماره 39 مورخہ 24 ستمبر تا 30 ستمبر 2010 صفحہ 5 تا 9)