خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 465
خطبات مسرور جلد ہشتم 465 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 03 ستمبر 2010 پھر آپ فرماتے ہیں: ”جو شخص خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کرے گا تو اللہ تعالیٰ بھی اس کی طرف رجوع کرے گا۔ہاں یہ ضروری ہے کہ جہاں تک بس چل سکے وہ اپنی طرف سے کو تاہی نہ کرے۔پھر جب اس کی کو شش اس کے اپنے انتہائی نکتہ پر پہنچے گی تو وہ خدا کے نور کو دیکھ لے گا۔وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنكبوت: 70) میں اس کی طرف اشارہ ہے کہ جو حق کوشش کا اس کے ذمہ ہے اسے بجالائے۔یہ نہ کرے کہ اگر پانی ( ہیں ) ہاتھ نیچے کھودنے سے نکلتا ہے تو صرف دو ہاتھ کھود کر ہمت ہار دے۔ہر ایک کام میں کامیابی کی یہی جڑ ہے کہ ہمت نہ ہارے۔پھر اس امت کے لئے تو اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ اگر کوئی پورے طور سے دعا و تزکیۂ نفس سے کام لے گا تو سب وعدے قرآنِ شریف کے اس کے ساتھ پورے ہو کر رہیں گے۔ہاں جو خلاف کرے گا وہ محروم رہے گا کیونکہ اس کی ذات غیور ہے۔اس نے اپنی طرف آنے کی راہ ضرور رکھی ہے لیکن اس کے دروازے تنگ بنائے ہیں۔پہنچتا وہی ہے جو تلخیوں کا شربت پی لیوے۔لوگ دنیا کی فکر میں درد برداشت کرتے ہیں حتی کہ بعض اسی میں ہلاک ہو جاتے ہیں لیکن اللہ تعالی کے لئے ایک کانٹے کی درد بھی برداشت کرنا پسند نہیں کرتے۔جب تک اس کی طرف سے صدق اور صبر اور وفاداری کے آثار ظاہر نہ ہوں تو ادھر سے رحمت کے آثار کیسے ظاہر ہوں۔“ ( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 223,224 جدید ایڈیشن ربوہ ) پس اس بات کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ مسلسل کوشش جاری رکھنا ایک مومن کا کام ہے۔فرمایا کہ ”اسلام اور دوسرے مذاہب میں جو امتیاز ہے وہ یہی ہے کہ اسلام حقیقی معرفت عطا کرتا ہے جس سے انسان کی گناہ آلود زندگی پر موت آجاتی ہے اور پھر اُسے ایک نئی زندگی عطا کی جاتی ہے جو بہشتی زندگی ہوتی ہے۔اب سوال ہوتا ہے کہ جبکہ یہ مابہ الامتیاز ہے تو کیوں ہر شخص نہیں دیکھ لیتا۔اس کا جواب یہ ہے کہ سنت اللہ اسی پر واقع ہوئی ہے کہ یہ بات بجز مجاہدہ، تو بہ اور تنبل تام کے نہیں ملتی۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنکبوت: 70) یعنی جو لوگ ہماری راہ میں مجاہدہ کریں گے انہی کو یہ راہ ملے گی۔پس جو لوگ خد اتعالیٰ کے وصایا اور احکام پر عمل نہ کریں بلکہ ان سے اعراض کریں ان پر یہ دروازہ کس طرح کھل جائے۔یہ نہیں ہو سکتا“۔( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 344 جدید ایڈیشن ربوہ) فرماتے ہیں: ” پھر وہ لوگ روح القدس کی طاقت سے بہرہ ور ہو کر ان مجاہدات میں لگے کہ اپنے پاک اعمال کے ساتھ شیطان پر غالب آجائیں“ (پھر وہ لوگ یعنی صحابہ روح القدس کی طاقت سے بہرہ ور ہو کر ان مجاہدات میں لگے کہ اپنے پاک اعمال کے ساتھ شیطان پر غالب آجائیں تب انہوں نے خدا کے راضی کرنے کے لئے ان مجاہدات کو اختیار کیا کہ جن سے بڑھ کر انسان کے لئے متصور نہیں۔انہوں نے خدا کی راہ میں اپنی جانوں کا خس و خاشاک کی طرح بھی قدر نہ کیا۔آخر وہ قبول کئے گئے اور خدا نے ان کے دلوں کو گناہ سے بکلی بیزار کر دیا اور