خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 460
خطبات مسرور جلد ہشتم 460 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 ستمبر 2010 لوگوں نے بعض ذکر کی محفلیں یا مجلسیں بنائی ہوئی ہیں۔بعض دفعہ بعض جگہوں پر چند ایک احمدیوں کی شکایت آتی ہیں کہ اس بات پر بڑا زور دیتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ جو سنت سے ہٹ کر کام کرو گے وہ اللہ تعالیٰ کا قرب نہیں دلا سکتا۔یا صرف اللہ ھو کر کے اور اس طرح کے دوسرے ذکر کر کے یا بعض دفعہ صرف مختلف قسم کے ذکر اذکار کی لمبی لمبی مجلسیں لگا کر یہ سمجھنا کہ ہمارے فرائض ادا ہو گئے اور نمازوں سے بھی چھٹی مل گئی اور باقی باتوں سے بھی چھٹی مل گئی، یہ نہیں ہو سکتا۔آپ نے فرمایا کہ : ” جو لوگ چاہتے ہیں کہ ہمیں کوئی محنت اور مشقت نہ کرنی پڑے وہ بیہودہ خیال کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں صاف فرمایا ہے وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنكبوت: 70) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی معرفت کے دروازوں کے کھلنے کے لئے مجاہدہ کی ضرورت ہے۔اور وہ مجاہدہ اسی طریق پر ہو جس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے۔اس کے لئے آنحضرت صلی علیکم کا نمونہ اور اُسوہ حسنہ ہے۔بہت سے لوگ آنحضرت صلی علیم کے اُسوہ حسنہ کو چھوڑ دیتے ہیں۔اور پھر سبز پوش یا گیروے پوش فقیروں کی خدمت میں جاتے ہیں کہ پھونک مار کر کچھ بنا دیں۔یہ بیہودہ بات ہے۔ایسے لوگ جو شرعی امور کی پابندیاں نہیں کرتے اور ایسے بیہودہ دعوے کرتے ہیں وہ خطرناک گناہ کرتے ہیں۔اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے بھی اپنے مراتب کو بڑھانا چاہتے ہیں کیونکہ ہدایت دینا اللہ تعالیٰ کا فعل ہے اور وہ مشت خاک ہو کر خود ہدایت دینے کے مدعی ہوتے ہیں“۔( ملفوظات جلد چهارم صفحہ 240 جدید ایڈیشن ربوہ) یہ پیر فقیر جو ہیں وہ بھی بجائے خدا تعالیٰ کے اپنے آپ کو ہدایت دینے والا سمجھتے ہیں کہ کوئی تعویز دے دیا گنڈا دے دیا اور کہہ دیا کہ بس، تمہارے مسائل حل ہو گئے اور یہ یہ چیزیں بھی تمہاری ہوں گی اور تم نیکیوں پر قائم رہو گے۔پھر آپ ایک جگہ فرماتے ہیں: خد اتعالیٰ کا یہ سچا وعدہ ہے کہ جو شخص صدق دل اور نیک نیتی کے ساتھ اس کی راہ کی تلاش کرتے ہیں وہ ان پر ہدایت و معرفت کی راہیں کھول دیتا ہے جیسا کہ اس نے خود فرمایا ہے وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنا۔یعنے جو لوگ ہم میں ہو کر مجاہدہ کرتے ہیں ہم ان پر اپنی راہیں کھول دیتے ہیں۔ہم میں ہو کر سے یہ مراد ہے کہ محض اخلاص اور نیک نیتی کی بنا پر خدا جوئی اپنا مقصد رکھ کر۔لیکن اگر کوئی استہزاء اور ٹھٹھے کے طریق پر آزمائش کرتا ہے ، وہ بد نصیب محروم رہ جاتا ہے۔پس اسی پاک اصول کی بنا پر اگر تم سچے دل سے کوشش کرو اور دعا کرتے رہو تو وہ غفور الرحیم ہے۔لیکن اگر کوئی اللہ تعالیٰ کی پرواہ نہیں کرتا وہ بے نیاز ہے“۔( الحکم جلد 8 نمبر 18 مورخہ 31 مئی 1904ء صفحہ 2 کالم نمبر 3) ہر حوالے میں کچھ نہ کچھ زائد باتیں ہیں اس لئے میں نے یہ لئے ہیں۔پس جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے کہ کسی کو ہدایت دینا اللہ تعالیٰ کا کام ہے اور ہمیشہ ہدایت اللہ تعالیٰ سے ہی ملتی ہے۔اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی طرف