خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 461
خطبات مسرور جلد ہشتم 461 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 ستمبر 2010 سے ہونے کا دعویٰ کرے اس کی حقیقت جاننے کے لئے بھی اللہ تعالیٰ سے ہدایت کی ضرورت ہے۔اگر کسی کو شک و شبہ ہے، کسی قسم کے نشانات پر تسلی نہیں ہو رہی۔لیکن اگر اسے جنسی اور ٹھیٹھے کا نشانہ بنایا جائے تو پھر انسان ہدایت سے محروم رہ جاتا ہے اور نہ صرف محروم رہ جاتا ہے بلکہ اللہ تعالی کی گرفت کا مورد بن جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے رنگ میں رنگین ہونے کی کوشش حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : خد اتعالیٰ تو ہر ایک انسان کو اپنی معرفت کے رنگ سے رنگین کرنا چاہتا ہے کیونکہ انسان کو خدا نے اپنی ( ملفوظات جلد دوم صفحہ 23 جدید ایڈیشن ربوہ) صورت پر پیدا کیا ہے۔“ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ صِبْغَةَ اللهِ وَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ صِبْغَةً وَ نَحْنُ لَهُ عبدون ( البقرة: 139) کہ اللہ کا رنگ پکڑو اور رنگ میں اللہ سے بہتر اور کون ہو سکتا ہے ؟ اور ہم اس کی عبادت کرنے والے ہیں“۔پس اللہ تعالیٰ کے رنگ میں رنگین ہونے کی کوشش ہے جو ہر مومن کو کرنی چاہئے۔جس سے انسان خدا تعالیٰ کا قرب پانے کے راستے طے کرتا ہے، قرب پانے کے راستے اس کو نظر آتے ہیں۔صبغة اللہ کا مطلب ہے کہ صفات الہیہ کا رنگ اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کی جائے۔اور اللہ تعالیٰ جب یہ فرماتا ہے تو فرمایا اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانی فطرت میں یہ صلاحیت رکھی ہے کہ وہ صفات الہیہ کا رنگ اختیار کر سکتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ ہم نے بھی فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا ہے۔( بخاری کتاب الاستیذان باب بدء السلام حدیث نمبر 6227) اور صورت سے یہی مراد ہے کہ آدم خدا تعالیٰ کی صفات کو اپنائے ہوئے ہے۔یہاں آدم سے مراد ابنِ آدم اور انسان ہیں، ہر انسان ہے۔اللہ تعالیٰ کی صفات ہیں۔مثلاً اللہ تعالیٰ ستار ہے تو انسان کو بھی اللہ تعالیٰ کی اس صفت سے حصہ لیتے ہوئے ستاری اور پردہ پوشی کی صفت اختیار کرنی چاہئے۔خدا تعالیٰ شکور ہے، انسان کو بھی شکور بننا چاہئے۔جب اللہ تعالیٰ کے بارے میں شکور آتا ہے تو گو اس کے معنی اور ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ تمام طاقتوں کا مالک ہے لیکن بندہ شکر گزار بنتا ہے اور اللہ تعالیٰ قدر کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی ایک صفت، بڑی وسیع تر صفت ربّ العلمينَ (الفاتحہ : 2) ہے۔اس کو سامنے رکھتے ہوئے ایک مومن بھی اپنے اپنے دائرہ میں ربّ ہے۔والدین بچوں کی پرورش کرتے ہیں۔ایک محدود دائرے میں ان کا بھی اس لحاظ سے رب ہونے کا ایک حلقہ ہے۔اسی طرح دوسری صفات ہیں۔پس یہ صفاتِ حسنہ جو ہیں ان کو سامنے رکھتے ہوئے جب انسان کو شش کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی رہنمائی فرماتا ہے اور پھر جیسا کہ ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا جب انسان کوشش کرتا ہے تو پھر اس کی کوششوں میں برکت ہوتی ہے۔