خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 459
خطبات مسرور جلد ہشتم 459 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 03 ستمبر 2010 بعد کسل نہیں۔اور ایسی تقوی دی جاتی ہے کہ جس کے بعد معصیت نہیں۔اور رب کریم ایسا راضی ہو جاتا ہے کہ جس کے بعد خطا نہیں۔مگر یہ نعمت دیر کے بعد عطا ہوتی ہے۔اوّل اوّل انسان اپنی کمزوریوں سے بہت سی ٹھوکریں کھاتا ہے اور اسفل کی طرف گر جاتا ہے مگر آخر اس کو صادق پا کر طاقت بالا کھینچ لیتی ہے۔( یعنی ایک مسلسل کوشش ہے کہ انسان گرتا ہے پھر اللہ تعالیٰ کے در پر آتا ہے پھر دور بنتا ہے دنیا اس کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔پھر وہ دنیا سے پرے ہٹ کے پھر اللہ تعالیٰ کی طرف جاتا ہے۔اور یہ مسلسل کوشش ہے جو جاری رہتی ہے۔آخر جب اللہ تعالی دیکھتا ہے کہ یہ کوشش کرتا چلا جارہا ہے۔ایک جہدِ مسلسل ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کی جو طاقت ہے وہ طاقت بالا اس کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے)۔فرمایا کہ : اس کی طرف اشارہ ہے جو اللہ جل شانہ فرماتا ہے کہ وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنا۔( پس یہ مستقل اور لمبی کوشش ہے جس کی آپ نے تشریح کی ہے عربی میں ) فرمایا کہ ”یعنی نُثَبِّتُهُمْ عَلَى التَّقْوَى وَالْإِيْمَانِ وَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَ الْمَحَبَّةِ وَالْعِرْفَانِ وَسَنُيَسِّرُهُمْ لِفِعْلِ الْخَيْرَاتِ وَ تَرْكِ الْعِصْيَان (ماخوذ از مکتوبات احمدیہ جلد دوم صفحه 50 مکتوب نمبر 32 بنام حضرت خلیفہ اول) پس یہ مستقل اور لمبی کو شش ہے جس سے تقویٰ اور ایمان میں دوام حاصل ہوتا ہے۔پھر آدمی اس پر ثابت قدم ہوتا ہے اس پر اور اللہ تعالیٰ کی محبت اور عرفان کے راستے اس کو ملتے ہیں۔نیکیوں کے کرنے اور گناہوں کو چھوڑنے کی طرف توجہ پیدا ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ پھر اس کی مدد فرماتا ہے اور فرمائے گا۔یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے۔پھر ایک جگہ اس آیت کی وضاحت کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ : سارا مدار مجاہدہ پر ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنكبوت: 70) جو لوگ ہم میں ہو کر کوشش کرتے ہیں ہم ان کے لئے اپنی تمام راہیں کھول دیتے ہیں۔مجاہدہ کے بدوں کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔جو لوگ کہتے ہیں کہ سید عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک نظر میں چور کو قطب بناد یا دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں اور ایسی ہی باتوں نے لوگوں کو ہلاک کر دیا ہے۔لوگ سمجھتے ہیں کسی کی جھاڑ پھونک سے کوئی بزرگ بن جاتا ہے“۔(مسلمانوں میں بڑا رواج ہے۔قبروں پر جاتے ہیں۔پیروں کے پاس جاتے ہیں۔تعویز گنڈے لیتے ہیں دعائیں قبول کروانے کے لئے اپنے مسائل حل کرنے کے لئے یا ان کے خیال میں چاہے نمازیں پڑھیں یا نہ پڑھیں اسی طرح ان کے تمام گناہ بخشے جاتے ہیں)۔فرمایا کہ : ”جو لوگ خدا کے ساتھ جلدی کرتے ہیں وہ ہلاک ہو جاتے ہیں۔دنیا میں ہر چیز کی ترقی تدریجی ہے۔روحانی ترقی بھی اسی طرح ہوتی ہے اور بدوں مجاہدہ کے کچھ بھی نہیں ہو تا۔اور مجاہدہ بھی وہ ہو جو خدا تعالیٰ میں ہو۔یہ نہیں کہ قرآنِ کریم کے خلاف خود ہی بے فائدہ ریاضتیں اور مجاہدہ جو گیوں کی طرح تجویز کر بیٹھے۔یہی کام ہے جس کے لئے خدا نے مجھے مامور کیا ہے تاکہ میں دنیا کو دکھلا دوں کہ کس طرح پر انسان اللہ تعالیٰ تک پہنچ سکتا ہے۔یہ قانون قدرت ہے ، نہ سب محروم رہتے ہیں اور نہ سب ہدایت پاتے ہیں۔( ملفوظات جلد اول صفحہ نمبر 338,339 جدید ایڈیشن ربوہ)