خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 426
خطبات مسرور جلد ہشتم 426 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 اگست 2010 آیات میں بیان ہوئی ہے اور کچھ تفصیل اس آیت میں اور بعد کی آیت میں بیان ہوئی ہے۔بلکہ اس کی اہمیت اس لئے بھی بہت بڑھ جاتی ہے کہ اس مبارک مہینے میں قرآن کریم جیسی عظیم الشان کتاب خدا تعالیٰ نے نازل فرمائی جو کامل اور مکمل شریعت کی کتاب ہے جو انسانِ کامل پر نازل ہوئی، وہ نبی جو تمام انسانوں کے لئے مبعوث ہوا جیسا کہ ہو قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔یاَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا (الاعراف: 159) کہ اے نبی کہہ دے میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کا رسول بن کر آیا ہوں۔پھر اللہ تعالیٰ ایک دوسری جگہ فرماتا ہے کہ وَمَا ارْسَلْنَكَ إِلَّا كَافَةً لِلنَّاسِ بَشِيرًا وَنَذِيرًا وَ لكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ ( س : 29) اور ہم نے تجھے نہیں بھیجا مگر تمام لوگوں کے لئے بشیر اور نذیر بنا کر مگر اکثر لوگ نہیں جانتے۔آنحضرت صلی السلام اور قرآن کریم آخری بہر حال آنحضرت صلی علیم کے بارہ میں قرآن کریم مختلف جگہوں پر مختلف انداز میں بیان فرماتا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے وہ پیارے رسول ہیں جو تمام انسانوں کے لئے مبعوث ہوئے ہیں اور اب تا قیامت کوئی اور شرعی کتاب والا نبی نہیں آسکتا، شریعت لے کر نہیں آسکتا۔پس قرآنِ کریم کا پیغام ایک عالمگیر پیغام ہے اور آپ صلی نیز کم تمام انسانوں کے لئے تا قیامت نبی ہیں۔اپنے آخری ہونے اور تمام انسانیت کے لئے ہونے کا دعویٰ قرآنِ کریم نے کیا ہے۔یہ اعزاز قرآن کریم کو حاصل ہے۔اس لئے اس کی عظمت روزِ روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے اور بڑھ جاتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ: ”ہم ایسے نبی کے وارث ہیں جو رَحْمَةً لِلْعَلَمِينَ اور كَافَةً لِلنَّاسِ کے لئے رسول ہو کر آیا۔جس کی کتاب کا خد امحافظ اور جس کے حقائق معارف سب سے بڑھ کر ہیں“۔(الحکم جلد 6 نمبر 36 مورخہ 10 اکتوبر 1902ء صفحہ 11 کالم نمبر 1) اسلام کی رحمت کی تعلیم قرآن کریم میں آپ صلی نظام کو رَحْمَةٌ لِلعلمین بھی کہا گیا ہے، پس یہ وہ عظیم نبی ہے جس سے اب انسانیت کے لئے رحمت کے چشمے پھوٹنے ہیں اور پھوٹتے ہیں۔اور آپ پر اتری ہوئی کتاب ہی ہے جس کی تعلیم پر حقیقی عمل کرنے والے اپنے عظیم رسول صلی علی کم کی سنت پر چلتے ہوئے دنیا کے لئے رحمت ہیں۔کاش کہ آج کے شدت پسند ملاؤں اور اپنے زعم میں عالم کہلانے والوں کو بھی یہ پتہ لگ جائے۔ان لوگوں کو بھی پتہ لگ جائے جو مذہبی جبہ پوش ہیں کہ قرآنِ کریم کی تعلیم اور آنحضرت صلی للی کم تو دنیا میں رحمتوں کی تقسیم کے لئے آئے تھے ، نہ کہ امن پسند شہریوں کے امن چھینے کی تعلیم دینے کے لئے ، نہ کہ معصوموں کی جانوں سے بے رحمانہ طور پر کھیلنے کے لئے۔بہر حال اس آیت کے اس حصہ میں جس میں قرآنِ کریم کے حوالے کے طور پر بات ہو رہی ہے ، اللہ تعالیٰ