خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 427
خطبات مسرور جلد ہشتم 427 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 اگست 2010 فرماتا ہے کہ اس قرآن میں تمام دنیا کے انسانوں کے لئے ہدایت ہے۔اس میں کھلے کھلے نشانات بیان کئے گئے ہیں۔اس میں حق و باطل میں فرق کرنے والے امور بیان کئے گئے ہیں۔پس مومنین کا فرض ہے کہ اس روشن تعلیم اور ہدایت سے پر جامع کتاب قرآن کو جو حق و باطل میں فرق کرتی ہے اس مہینے میں جو رمضان کا مہینہ کہلاتا ہے، جو روحانیت میں ترقی کا مہینہ کہلاتا ہے ، جس میں روزے رکھ کر انسان خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔جس میں ایک مؤسسن اپنی عبادتوں کے معیار بلند کرنے کی کوشش کرتا ہے اس میں قرآنِ کریم کو اپنے سامنے رکھو کہ یہ تمہارا ر ہنما ہے۔اس مہینے میں اس پر غور کرو۔اس کی تلاوت پر جہاں زور دو وہاں اس کے احکامات پر غور کرتے ہوئے اپنی ہدایت کے سامان پیدا کرو۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ هُدًى لِلْمُتَّقِینَ کہ یہ متقیوں کے لئے ہدایت ہے۔پہلے فرمایا تمام انسانیت کے لئے ہدایت ہے۔ہدایتوں کے معیار مختلف ہیں۔متقیوں کے لئے بھی اس میں ہدایت ہے۔صرف ایک دفعہ ایمان لا کر یا تقویٰ پر قائم ہو کر ہدایت ختم نہیں ہو جاتی۔بلکہ ہدایت کا یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔یعنی وہ لوگ جو متقی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے خوف اور اس کی خشیت پر ہر قسم کے خوف، خشیت اور محبت کو حاوی سمجھتے ہیں۔اگر ان دعویٰ کرنے والوں کا یہ دعوی سچا ہے تو پھر اس تعلیم کی تمام باریکیوں پر عمل کرنا بھی ضروری ہے ورنہ آنحضرت صلی الی یکم نے فرمایا ہے کہ ایسے لوگ جو غور نہیں کرتے، تقویٰ پر چلنے کی کوشش نہیں کرتے ایسے لوگوں کا رات کا جاگنا بھی صرف جاگنا ہے۔اور ان لوگوں کے روزے بھی صرف بھوک اور پیاس ہیں۔(سنن ابن ماجہ کتاب الصیام باب ما جاء فى الغيبة والرفث للصائم حديث نمبر 1690) پس روزے کی اہمیت اس وقت ہے جب قرآن کی اہمیت ہو۔اس کی تعلیم کی اہمیت ہو جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی ہے۔اس تعلیم پر عمل کرنے کی کوشش ہو۔پس اللہ تعالیٰ نے ان دنوں میں تزکیہ نفس پر زور دینے کو اہمیت دی ہے جس کا پتہ بھی ہمیں قرآنِ کریم سے چلتا ہے۔جب یہ حالت ایک مومن کی ہو گی تب وہ اس خوبصورت تعلیم کو دنیا کے سامنے پیش کر سکتا ہے۔تب ہم دنیا کو بتا سکتے ہیں کہ جس طرف تم جارہے ہو یہ بہت خطرناک راستہ ہے۔یہ تباہی کا راستہ ہے۔یہ تمہاری دنیا و آخرت کی بربادی کا راستہ ہے۔اگر تم دنیا و آخرت کی بقا چاہتے ہو تو آؤ ہم تمہیں ہدایت کے راستے بتاتے ہیں۔قرآنِ کریم کا صرف دعوی نہیں ہے کہ ھدی للناس۔بلکہ اگر تم اس تعلیم پر عمل کرو تو اس دنیا میں ہدایت کے اثرات نظر آتے ہیں۔یعنی جیسا کہ میں نے کہا، سب سے پہلے تو ایک مسلمان کے عمل ہمارے سامنے ہونے چاہئیں، دنیا کے سامنے ہونے چاہئیں، جسے دنیا دیکھ سکے۔یہ بڑی بد قسمتی ہے کہ آج مسلمانوں کے عمل ہی ہیں جو مخالفین اسلام کو یہ موقع دے رہے ہیں کہ وہ قرآن کریم پر اعتراض کریں، اس کی تعلیم پر اعتراض کریں۔