خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 425
خطبات مسرور جلد ہشتم 425 34 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 اگست 2010 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 20 اگست 2010ء بمطابق 20 ظهور 1389 ہجری شمسی بمقام بیت الفتوح لندن (برطانیہ) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس آیت کی تلاوت فرمائی: شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِى أُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَتِ مِنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمْ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ وَ مَنْ كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أَخَرَ يُرِيدُ اللهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا اللهَ عَلَى مَا هَدَ بِكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ (البقره: 186) اس آیت کا ترجمہ ہے کہ رمضان کا مہینہ جس میں قرآن انسانوں کے لئے ایک عظیم ہدایت کے طور پر اور ایسے کھلے نشانات کے طور پر اتارا گیا جن میں ہدایت کی تفصیل اور حق و باطل میں فرق کر دینے والے امور ہیں۔پس جو بھی تم میں سے اس مہینے کو دیکھے تو اس کے روزے رکھے اور جو مریض ہو یا سفر پر ہو تو گنتی پوری کرنا دوسرے ایام میں ہو گا۔اللہ تمہارے لئے آسانی چاہتا ہے اور وہ تمہارے لئے تنگی نہیں چاہتا۔اور چاہتا ہے کہ تم سہولت سے گفتی کو پورا کر و۔اور اس ہدایت کی بناء پر اللہ کی بڑائی بیان کرو جو اس نے تمہیں عطا کی اور تاکہ تم شکر کرو۔رمضان کا بابرکت مہینہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں رمضان کے مہینے کی قرآن کریم سے خاص نسبت کا بیان فرمایا ہے۔یعنی یہ مہینہ وہ بابرکت مہینہ ہے جس میں قرآنِ کریم اتارا گیا۔قرآنِ کریم کے نازل ہونے کی ابتدا بھی اس مہینے میں ہوئی اور اس بابرکت مہینے میں جبرئیل علیہ السلام ہر سال اس وقت تک نازل شدہ قرآن کریم کی دہرائی آنحضرت صلی ال نیم کو کر وایا کرتے تھے۔( بخاری کتاب فضائل القر آن باب كان جبريل يعرض القرآن علی النبی صلى الله علم حدیث نمبر 4998) پس یہ مہینہ اللہ تعالیٰ کے اس پاک کلام کو خاص طور پر پڑھنے اور سمجھنے کا مہینہ ہے۔گویا یہ اس لحاظ سے بھی بڑی اہمیت کا مہینہ ہے۔صرف روزے رکھنے اور اس فرض کو پورا کرنے کی حد تک نہیں جس کی کچھ تفصیل پہلی