خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 424
خطبات مسرور جلد ہشتم 424 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 13 اگست 2010 قرآنِ کریم میں بھی اللہ تعالیٰ نے معاشرے کے حقوق کے بارے میں بڑی تفصیل سے بتایا اور آنحضرت صلی علیم کی زندگی میں بھی ہمیں اس کی بہت تفصیل نظر آتی ہے، اس کی باریکیاں نظر آتی ہیں۔مثلاً ایک حق ہے صلہ رحمی کا۔یہ حق بعض لوگ نظر انداز کر جاتے ہیں۔مثلا رحمی رشتوں کی ادائیگی کے بارے میں خدا تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے اور ہر نکاح پر ایک آیت پڑھی جاتی ہے۔لیکن اس کا حق ادا کرنے کی طرف توجہ کم ہوتی ہے۔حالانکہ رحمی رشتے جو آپس میں قائم ہوتے ہیں وہ تو دونوں طرف کے رشتے ہیں۔لڑکے کی طرف کے بھی، لڑکی کی طرف کے بھی۔اگر ان کا حق ادا کیا جائے تو بہت سارے مسائل جو رشتوں میں پیدا ہوتے ہیں وہ پیدا نہ ہوں جن کی تعداد اب بڑھتی چلی جارہی ہے۔آج کل بعض رشتوں میں دراڑوں کی بہت بڑی وجہ یہی ہے۔آنحضرت صلی علیہ یکم تو نہ صرف رحمی رشتوں کا پاس فرمایا کرتے تھے بلکہ رضاعی رشتوں کا بھی بڑا احترام کیا کرتے تھے۔پس یہ اُسوہ آج کل کے فساد کو ختم کرنے کے لئے بڑا ضروری ہے۔گھروں کے ٹوٹنے میں آج کل بہت بڑی وجہ بنی ہوئی ہے۔میں نے اکثر دیکھا ہے کہ ایک دوسرے کے رشتوں کی قدر نہ کرنا بھی خاوند بیوی کے تعلقات میں دراڑیں ڈالتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرا بندہ بنے کا فیض اٹھانا ہے تو عبادتوں کے بھی حق ادا کرنے ہوں گے اور اعلیٰ اخلاق کا بھی مظاہرہ کرنا ہو گا۔میرے بندوں کے بھی حق ادا کرنے ہوں گے جس کا اسوہ ہمارے سامنے اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی ایم کی ذات میں قائم فرمایا اور جس کی نصائح آپ نے ہمیں فرمائیں۔اور جب ہماری یہ حالت ہو گی تو ہم ان لوگوں میں شمار ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کا قرب پانے والے ہیں۔ورنہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس مضمون کو ایک جگہ اس طرح بیان فرمایا ہے کہ : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں تو قریب ہوں، تم دُور ہو۔پس اپنے اعمال درست کرتے ہوئے میرے قریب آؤ تو مجھے اپنے قریب پاؤ گے“۔یہ دو طرفہ معاملہ ہے اور اس میں بھی پہل بہر حال بندے نے ہی کرنی ہے۔اللہ کرے کہ ہم اس اصل کو سمجھنے والے ہوں اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے اپنے گناہوں سے بچنے کے لئے دعائیں مانگنے والے ہوں تا کہ اس بابرکت مہینے میں اللہ تعالیٰ کا فضل ہم پر نازل ہو اور ہم اللہ تعالیٰ کے مقرب بندے بنے والے کہلا سکیں۔رمضان کے دنوں میں ایک یہ دعا بھی کریں، جماعت اسے پہلے بھی کر ہی رہی ہے ، یاد دہانی کرواتا ہوں کہ پاکستان کے بارہ میں خاص طور پر دعا کریں۔پاکستان کے احمدیوں کے بارے میں خاص طور پر دعا کریں۔یہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ہر وقت اپنی رحمت کی چادر میں لپیٹے رکھے۔دشمن کے تمام منصوبے خاک میں ملائے۔جماعت کو اپنی خاص حفاظت میں رکھے۔اپنی خارق عادت قدرت کا جلوہ دکھائے۔اور اللہ تعالیٰ کی نظر میں جو شَر النَّاس ہیں ان کا خاتمہ فرمائے۔پاکستان کی جو حالت ہے یہ لوگ جو وہاں کے ارباب حل و عقد ہیں، جو لیڈر شپ ہے سمجھ نہیں رہے کہ کس طرف جارہا ہے اور کیا ہونے والا ہے۔اللہ تعالیٰ ہی رحم فرمائے اور اسلام اور احمدیت کی ترقی ہمیں پہلے سے بڑھ کر دکھائے۔الفضل انٹر نیشنل جلد 17 شماره 36 مورخہ 3 ستمبر تا 9 ستمبر 2010 صفحہ 5تا8)