خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 401
خطبات مسرور جلد ہشتم 401 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 جولائی 2010 طرف سے بڑی پاکیزہ اور برکت والی دعا ہے۔اور جو خدا تعالیٰ کے نزدیک پاکیزگی اور برکت لانے والی دعا ہو اور پیغام ہو ، وہ آنے والے اور رہنے والے دونوں کی پاکیزگی اور برکت کا ذریعہ بن جاتا ہے۔پس یہ وہ پیارا ماحول ہے، یہ وہ خوبصورت ماحول ہے جو خدا تعالیٰ ہم میں پیدا کرنا چاہتا ہے۔لیکن اگر ہم اپنی چالا کیوں اور نفسانی اغراض کی وجہ سے اسے ضائع کر دیں تو یہ بد قسمتی ہے اور کوئی مومن اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی برکات سے محروم ہو جائے۔ہم دیکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی للی علم کی صحبت میں رہنے والوں کے رہن سہن اور آپس کے تعلقات میں ایسی بے تکلفی تھی اور آپ ایسے انداز میں تبلیغ فرمایا کرتے تھے جو ہر ایک کو اخلاق کی بلندیوں پر لے جانے والا ہو تا تھا۔جھوٹی اناؤں اور جھوٹی عزتوں اور جھوٹی غیر توں کی تمام دیواروں کو گراتے ہوئے آپ تربیت کے نئے راستے کھولتے تھے۔اور یہی اخلاق کا وہ اعلیٰ معیار تھا جو آپ نے اپنی اس طبیعت کی وجہ سے ، قوت قدسی کی وجہ سے صحابہ میں پیدا کر دیا اور انہیں ہمارے لئے بھی ایک نمونہ بنا دیا۔ایک حدیث میں ہمیں اس پاک تربیت کا ایک نمونہ اس طرح ملتا ہے۔حضرت ابو مسعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص جسے ابو شعیب کہا جاتا تھا، اپنے قصائی غلام کی طرف گیا اور اسے کہا کہ میرے لئے پانچ آدمیوں کا کھانا تیار کر دو۔میں نے رسول اللہ صلی اللی کم کے چہرے پر بھوک کے آثار دیکھے ہیں۔اس نے کھانا تیار کیا اور نبی کریم صلی للی کم اور آپ کے ساتھیوں کو جو آپ کے پاس بیٹھے تھے بلا بھیجا۔جب آنحضرت صلی الہ یکم چلے تو ایک اور شخص بھی آپ کے پیچھے ہو لیا جو دعوت کے لئے بلانے کے وقت موجود نہیں تھا۔جب رسول اللہ صلی لیکن اس کے دروازے پر پہنچے تو آپ نے گھر والے سے فرمایا کہ ہمارے ساتھ ایک ایسا شخص بھی آگیا ہے جو اس وقت ہمارے ساتھ نہ تھا جب تم نے ہمیں دعوت دی تھی۔اگر تم اجازت دو تو وہ بھی آجائے۔اس نے عرض کی کہ ہماری طرف سے اجازت ہے کہ وہ بھی ساتھ آجائے۔(ترمذی کتاب النکاح باب ماجاء فيمن يجيبى الى الوليمة من غير دعوة حديث (1099) یہ وہ اعلیٰ اخلاق ہیں جو آپ اپنے صحابہ میں پیدا فرمانا چاہتے تھے اور آپ کی قوت قدسی نے بلا استثناء ہر ایک میں جو آپ سے فیضیاب ہو اوہ اخلاق پیدا کر دیئے۔آپ اگر چاہتے تو اس شخص کو پہلے ہی فرما سکتے تھے کہ ہماری دعوت ہے۔کیونکہ تمہیں نہیں بلایا گیا اس لئے ہمارے ساتھ نہ آؤ۔لیکن نہیں، آپ وہ عظیم مدرس تھے جو اپنے صحابہ کو عملی درس سے بھی نوازتے تھے۔اس لئے آپ نے اس شخص کو ساتھ آنے دیا اور یقیناً آپ کو یہ بھی تسلی تھی کہ جو شخص میری محبت میں اس قدر بڑھا ہوا ہے کہ میرے چہرے کے آثار کو دیکھتا ہے، میرے پوچھنے پر بھلا یہ کیسے انکار کر سکتا ہے۔لیکن جو شخص ساتھ تھا اس کو بھی سبق دے دیا کہ ایسی صورت حال میں اگر گھر والا انکار