خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 402
خطبات مسرور جلد ہشتم 402 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 جولائی 2010 کرے تو بغیر بر امنائے واپس چلے جانا۔کیونکہ یہ تمہارا حق نہیں ہے گھر والے کا احسان ہے۔اس لئے کبھی کسی قسم کی جھوٹی آنا اور جھوٹی غیرت میں نہ پڑنا۔صحابہ نے تو آنحضرت صلی للی نام کی تربیت اور قوت قدسی سے وہ معیار حاصل کئے تھے کہ ایک صحابی کے بارے میں آتا ہے کہ آپ اس بات کی تلاش میں رہتے تھے کہ میں اس حکم کو بھی پورا کرنے والا بن جاؤں کہ اگر تمہیں گھر والا کہے کہ واپس چلے جاؤ تو بغیر بر امنائے واپس آ جاؤں۔لیکن وہاں تو تمام صحابہ ہی آنحضرت صلی ایم کے تربیت یافتہ تھے۔یہ کس طرح ہو سکتا تھا کہ کوئی مہمان نوازی کا حق ادانہ کرتا اور گھر آئے ہوئے مہمان کو واپس لوٹا دیتا۔اس لئے ان صحابی کی یہ خواہش باوجود کوشش کے کبھی پوری نہیں ہوئی۔لیکن اس سے اس وسعت حوصلہ اور ہر حکم پر عمل کرنے کی خواہش اور تڑپ کا بہر حال واضح اظہار ہوتا ہے جو ان صحابہ کے دل میں ہوتی تھی۔پس یہ وہ وسعت حوصلہ ہے جو ہم میں سے ہر ایک کو اپنے دل میں پیدا کرنی چاہئے اور اس کا عملی اظہار بھی ہماری زندگیوں میں ہونا چاہئے۔اس ماحول میں جب آپ جلسہ کے لئے آئے ہوئے ہیں تو واقف کاروں کو ملنے اور سلام کرنے کے بہت نظارے نظر آتے ہیں لیکن اصل اسلامی معاشرہ کی خوبی یہی ہے اور آنحضرت صلی ال یکم نے بھی یہ ارشاد فرمایا کہ جسے تم جانتے ہو یا نہیں جانتے ہر ایک کو سلام کہو۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت سے لوگ ایسے ہیں جو اس حکم کے مطابق عمل کرتے ہیں اور باہر سے آئے ہوئے نو مبائعین جو ہیں اس سے بڑے متاثر ہوتے ہیں۔پس فرمایا کہ تم جانتے ہو یا نہیں جانتے اسے سلام کہو۔پس ان دنوں میں سلام کو بھی رواج دیں تا کہ یہ عادت پھر مستقل آپ کو پڑ جائے۔آنحضرت صلی علیم نے فرمایا کہ سلام کو رواج دینا اسلام کی ایک بہترین قسم ہے۔بشر طیکہ سلام کے رواج کی، سلام کا جو پیغام ہے اس کی روح کو سمجھا جائے۔سلام ایک سلامتی کا پیغام ہے۔ایک محبت کا اظہار ہے تا کہ محبت اور بھائی چارہ قائم ہو۔کتنا اچھا ہو اگر آج بعض وہ لوگ جو ایک دوسرے سے ناراض ہیں وہ بھی دل کی گہرائی سے ایک دوسرے کو معاف کرتے ہوئے سلامتی کا پیغام پہنچائیں اور گلے لگ جائیں۔مومن ایک ہو کر اپنے لہی سفر کی برکات حاصل کرنے والے بن جائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا اپنا عمل بھی ایک مہمان ہونے کی حیثیت سے ایک سبق دیتا ہے۔یہ بھی ایک ایسی بات ہے جو ہر مومن کو اپنے مد نظر رکھنی چاہئے۔ہر مہمان کو جو مہمان بن کر کہیں بھی جاتا ہے اس کو اپنے سامنے رکھنی چاہئے۔نبی کا تو ہر سفر للہی ہوتا ہے بلکہ اس کا تو ہر لمحہ خدا تعالیٰ کے احکامات کی پیروی میں اور خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے گزرتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی سیرت کے واقعات میں سے ایک واقعہ پیش کرتا ہوں جو آپ کے مہمان ہونے کے ایک اعلیٰ ترین معیار کا پتہ دیتا ہے۔حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی نے جو روایت کی