خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 400 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 400

خطبات مسرور جلد ہشتم 400 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 30 جولائی 2010 گھر لیا ہو یا مسجد میں ہوں۔گھروں کی تو خیر محدود ر ہائش ہے اس سے زیادہ گھروں کا استعمال نہیں کیا جاسکتا لیکن جو جماعتی جگہیں ہیں یا مسجد ہے اس میں تو ایک محدود وقت تک مہمان ٹھہرانے کی اجازت ہوتی ہے لیکن اس کے بعد پھر حکومتی ادارے نگرانی شروع کر دیتے ہیں اور جماعت کا یہاں کی مقامی انتظامیہ پر ایک اچھا اثر ہے کہ یہ لوگ قاعدہ اور قانون کی پابندی کرنے والے ہیں۔تو اگر اس قواعد کی پابندی نہ ہو رہی ہو تو اس سے برا اثر پڑتا ہے۔پس اس بات کا بھی خاص خیال رکھیں کہ اگر زیادہ دیر ٹھہرنا ہے تو اپنے واقفوں اور عزیزوں کے پاس ٹھہریں اگر وہ ٹھہرانے پر راضی ہوں۔زبر دستی تو وہاں بھی نہیں ہو سکتی۔آنحضرت صلی اللہ کریم نے اس بات سے سختی سے منع فرمایا ہے اور اس کو جائز قرار نہیں دیا کہ مہمان اتنالمبا عرصہ مہمان نوازی کروائے کہ میزبان کو تکلیف میں ڈال دے۔پس ایک نیک مقصد کے لئے آئے ہوئے مومن کو اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہئے۔زبر دستی کسی جگہ پر رہنا ایسا ہی ہے جیسا کہ کسی کے گھر ڈاکہ ڈالنا اور ایک موسمن سے تو کبھی یہ توقع نہیں کی جاسکتی۔اللہ تعالیٰ تو یہاں تک فرماتا ہے کہ سلام کر کے لوگوں کے گھروں میں داخل ہو۔فرمایا لا تدخُلُوا بيوتا ( النور : 28): کہ دوسروں کے گھروں میں داخل نہ ہو حَتَّی تَسْتَأْنِسُوا ( النور : 28) جب تک کہ اجازت نہ لے لو۔اب لوگ اجازت لے کر مہمان بن کر تو آجاتے ہیں لیکن پھر اتنا لمبا عرصہ مہمان بنتے ہیں کہ انتظامیہ ہو یا گھر والے ہوں ان کے لئے تکلیف کا باعث بن جاتے ہیں۔اس لئے گھر والوں کی یا انتظامیہ کی اس فکر کو دور کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے آنے والے مہمانوں کو مزید نصیحت فرمائی ہے کہ تُسَلِّمُوا عَلَى أَهْلِهَا ( النور : 28) کہ گھر والوں کو سلامتی کا پیغام دو۔انہیں بتا دو کہ میں تو ایک مومن کی طرح تمہارے لئے سلامتی کے سوا کچھ نہیں لایا۔میں ان مہمانوں میں سے نہیں ہوں جو میزبان کی تکلیف کا باعث بنتے ہیں۔میں تو ایک نیک مقصد کے لئے آیا ہوں۔اور اس مقصد کے پورا ہونے کے بعد ، کیونکہ دور سے آنے کی وجہ سے کچھ دیر تو ٹھہرنا پڑتا ہے، اس مجبوری کی وجہ سے کچھ عرصہ ٹھہر کر واپس چلا جاؤں گا۔اور پھر میری مہمان نوازی کی وجہ سے بھی تمہیں کسی تکلف اور تکلیف کی ضرورت نہیں ہے۔کوئی شکوہ نہیں ہو گا کہ میری مہمان نوازی صحیح طرح نہیں کی گئی یا میری مہمان نوازی کا حق ادا نہیں کیا گیا۔مومن تو سلام کو رواج دے کر محبت اور پیار کو بڑھانے والے ہیں۔پس جب میر اسفر ، ایک مومن کا سفر دینی غرض کے لئے ہے تو یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ میں اپنے میز بانوں کے لئے دکھ کا باعث بنوں۔ایک دوسری جگہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ سلامتی کا پیغام گھر والوں کو اور اپنے میز بانوں کو دو۔فرمایا کہ تَحِيَّةٌ مِنْ عِنْدِ اللهِ مُبْرَكَةً طَيِّبَةً ( النور :62) کہ یہ اصل سلامتی کا پیغام ہے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بڑی برکت والی اور پاکیزہ دعا ہے۔پس جب میزبان اور مہمان ایک دوسرے کو سلام کرتے ہیں تو جہاں وہ کسی قسم کے خوف اور فکر سے آزاد ہوتے ہیں وہاں ایک ایسی دعا سے وہ ایک دوسرے کو فیض یاب کرتے ہیں جو خدا تعالیٰ کی