خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 399
خطبات مسرور جلد ہشتم 399 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 30 جولائی 2010 نیک مقصد کے لئے آئے ہیں۔اس لئے اس مقصد کے حصول کی کوشش کریں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خواہش کے مطابق باہم محبت و اخوت کی مثال بن جائیں۔اللہ تعالیٰ نے جو مؤمنین کا نقشہ کھینچا ہے کہ رُحَمَاء بَيْنَهُمُ (الفتح : 30) کہ آپس میں ایک دوسرے سے بہت پیار اور محبت اور نرمی اور ملاطفت کا سلوک کرتے ہیں تا کہ خدا تعالیٰ کی رضامندی اور اس کا فضل حاصل کرنے والے بن سکیں اور اس فضل کے حصول کے لئے چھوٹی چھوٹی باتوں میں الجھنے کی بجائے وہ رکوع و سجود اور عبادتوں سے اپنی زندگی کے مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔پس ہر مہمان جو یہاں آیا ہے اپنے سفر کو خالصتا للہ بنانے کی کوشش کرے۔جیسا کہ میں نے گزشتہ خطبہ میں میز بانوں کو کہا تھا کہ باہر سے آنے والے مہمان ، کارکنوں کے کام کو دیکھتے ہیں کہ کس طرح یہ کام کر رہے ہیں ؟ اور اس کام کو دیکھ کر بڑے متاثر ہوتے ہیں۔اور ہر کارکن ایک خاموش تبلیغ کر رہا ہوتا ہے۔اسی طرح جلسہ میں شامل ہونے والا ہر احمدی بھی احمدیت کی خاموش تبلیغ کر رہا ہوتا ہے اور احمدیت کا سفیر ہے۔ہر سال مجھے یہاں بھی اور جرمنی وغیرہ میں بھی اور بعض دوسرے ملکوں سے بھی رپورٹیں آتی ہیں وہاں سے بھی پتہ لگتا ہے کہ پہلی دفعہ آنے والے غیر از جماعت مہمان یہی کہتے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے کہ اتنا بڑا مجمع اور بغیر کسی شور و فساد کے ہر کام بڑے آرام سے چل رہا ہوتا ہے۔اور اس بات کو دیکھ کر ہر کوئی یہ کہتا ہے کہ مسلمانوں کا یہ رخ تو ہم نے پہلی دفعہ دیکھا ہے۔دیکھنا کیا تھا ان کی اکثروں کی باتیں سنی سنائی ہوتی ہیں۔بہر حال یہ ایک خاموش تبلیغ ہے جو ہر احمدی جلسے کے دنوں میں کر رہا ہوتا ہے۔پس یہاں جلسہ میں شامل ہونے والے جلسہ میں شامل ہو کر صرف اپنی اصلاح نہیں کر رہے ہوتے ، بلکہ بہت سوں کو سیدھی راہ دکھانے کا باعث بھی بنتے ہیں۔پس اس عمل سے اللہ تعالیٰ کے پیار کی نظر پہلے سے بڑھ کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ان مہمانوں پر پڑتی ہے جو بعض حالات میں اللہ تعالیٰ کی خاطر اپنے صبر اور حو صلے اور ہمت اور برداشت کا مادہ ظاہر کر رہے ہوتے ہیں اور اسلام کے اعلیٰ اخلاق کا اسلامی نمونہ ہیں وہ دکھارہے ہوتے ہیں۔اور اسی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اُن دعاؤں کے وارث بن رہے ہوتے ہیں جو جلسے میں شامل ہونے والوں کے حق میں آپ نے فرمائیں۔ایک بات میں مہمانوں کو ہر سال یاد کرواتا ہوں، لیکن ایک طبقہ بات سن کر یوں اڑا دیتا ہے جیسے انہوں نے سناہی نہیں اور وہ یہ کہ جماعتی مہمان داری کے انتظام کے تحت یورپ کے یا امریکہ وغیرہ کے ترقی یافتہ ملکوں کے علاوہ جو دوسرے غریب ممالک پاکستان ، ہندوستان، بنگلہ دیش و غیره، اسی طرح افریقہ کے ممالک سے آرہے ہیں وہ دو یا تین ہفتے سے زیادہ نہ ٹھہر کریں۔اس سے جلسے کی انتظامیہ جو ہے اس کو بھی دقت ہوتی ہے۔اور جماعت کا جو مستقل نظام ہے اس کو بھی دقت ہوتی ہے۔کیونکہ رہائش کی باقاعدہ جگہیں تو اس قدر یہاں نہیں ہیں کہ تمام نظام اور رہائش کا انتظام آسانی سے چل سکے۔عارضی رہائشگاہیں بنائی جاتی ہیں چاہے وہ کسی جماعتی جگہ پر ہوں یا کسی سے