خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 394
خطبات مسرور جلد ہشتم 394 31 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 30 جولائی 2010 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 30 جولائی 2010ء بمطابق 30 وفا 1389 ہجری شمسی بمقام حدیقۃ المہدی۔آلٹن۔(برطانیہ) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس آیت کی تلاوت فرمائی: التَّابِبُونَ الْعَبِدُونَ الْحَمِدُونَ السَّابِحُونَ التَّكِعُونَ السُّجِدُونَ الأمِرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّاهُونَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَالْحَفِظُونَ لِحُدُودِ اللهِ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ (التوبة: 112) اس آیت میں ان لوگوں کا نقشہ کھینچا گیا ہے جو دین کو دنیا پر مقدم کرنے والے ہیں اور اپنے ایمان کی اس حالت کی وجہ سے خدا تعالیٰ سے بشارت پانے والے ہیں۔گویا یہ خصوصیات رکھنے والے حقیقی مومن کہلاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اَلتَّائِبُونَ: توبہ کرنے والے، ایسی توبہ ، جو توبہ کا حق ہے۔العبدُونَ : عبادت کرنے والے۔ایسی عبادت جو عبادت کا حق ہے۔الحمدون: حمد کرنے والے جو حمد کرنے کا حق ہے۔السَّائِحُوْنَ : اللہ کی راہ میں خالص ہو کر سفر کرنے والے، یعنی ایسا سفر جو دین کی غرض سے اور دین سیکھنے کے لئے ہو۔الر کیعون: مکمل طور پر خدا تعالیٰ کے آگے جھکنے والے ، اور عاجزی اور بے نفسی کا مکمل اظہار کرنے والے۔الشجدُون: انتہائی انکسار، عاجزی اور کامل فرمانبرداری سے خدا تعالیٰ کے آگے سجدہ کرتے ہوئے ماتھا ٹیکنے والے۔اَلْأَمِرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّاهُوْنَ عَنِ الْمُنْكَر: یعنی خدا تعالیٰ کے پیغام کے داعی بن کر نیکیوں کا حکم دینے والے اور برائیوں سے روکنے والے ہیں۔موٹی برائیوں اور باریک تر برائیوں سے بھی روکنے والے ہیں۔اور موٹی موٹی نیکیوں کی طرف توجہ دلانے والے بھی اور باریک تر نیکیوں کی تلقین کرنے والے بھی ہیں۔اور ظاہر ہے یہ اس وقت ہو سکتا ہے جب اپنے اندر یہ تبدیلی پیدا ہو جائے کہ خود برائیوں سے بچنے والے ہوں اور نیک اعمال بجالانے والے ہوں۔اور جس میں یہ پہلی چھ خصوصیات جو اس آیت میں بیان کی گئی ہیں پیدا ہو جائیں، یعنی تو بہ کی طرف توجہ ، عبادت کی طرف توجہ، اللہ تعالیٰ کی حمد کی طرف توجہ ، دین سیکھنے کی خاطر سفر کرنا، اور رکوع و سجود کی طرف توجہ جو رکوع و سجود کا حق ہے تو ان میں یقیناً یہ خوبی پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ برائیوں سے دور بھاگنے والے ہوتے ہیں اور ان کے ہر قول و فعل سے نیکی کا اظہار ہو رہا ہو تا ہے۔اور یہی لوگ ہیں جو اس مرتبے پر پہنچتے ہیں جس کا اللہ تعالیٰ نے یہ کہہ کر) ذکر فرمایا ہے کہ