خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 395
395 خطبات مسرور جلد ہشتم خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 30 جولائی 2010 الْحَفِظُونَ لِحُدُودِ اللهِ : اللہ تعالیٰ کی حدود کی حفاظت کرنے والے ہیں۔اس گروہ میں شامل ہو جاتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی حدود کی حفاظت کرنے والا ہے۔اور اللہ تعالیٰ انہیں نیکیوں میں بڑھتے چلے جانے کی توفیق عطا فرماتا ہے۔اس وقت آپ جو میرے سامنے بیٹھے ہوئے ہیں میری دعا ہے اور میں امید رکھتا ہوں کہ ان خصوصیات کے حامل بننے کی کوشش کرتے ہوئے اس گروہ میں شامل ہونے کے لئے یہاں تشریف لائے ہیں۔آپ میں سے ایک بڑی تعداد ان مسافروں کی ہے جنہوں نے تکلیف اٹھا کر یہ سفر اختیار کیا۔اور آج جو جلسہ شروع ہو رہا ہے اس میں شامل ہونے کے لئے تشریف لائے ہیں۔آج صبح ہی جب میں نماز فجر پڑھا کر جارہا تھا تو میں نے دیکھا ایک خاندان بلکہ اور بھی کئی ہوں گے ، جو ساری رات یورپ سے ایک لمبا سفر کر کے یہاں پہنچے تھے۔بچے بھی تھے، عور تیں بھی تھیں۔یہ تکلیف اٹھا کر سفر کرنے والے لوگ ہیں تا کہ جو جلسہ شروع ہو رہا ہے اس میں شامل ہو سکیں۔بلکہ یہاں حدیقۃ المہدی میں آپ میں سے ہر ایک نے آنے کے لئے کچھ نہ کچھ سفر اختیار کیا ہے اور یہ خدا تعالیٰ کی نظر میں مومنین کی جماعت کی ایک بہت بڑی خصوصیت ہے کہ وہ دین کی خاطر اور دین سیکھنے کے لئے سفر اختیار کرتے ہیں۔تبھی تو خدا تعالیٰ نے تو بہ کرنے والوں، عبادت کے معیار قائم کرنے والوں ، اللہ تعالیٰ کی حمد سے اپنی زبانوں کو تر رکھنے والوں ، عاجزی اور انکسار سے اللہ تعالیٰ کے حضور رکوع و سجود کرنے والوں میں ان للہی سفر اختیار کرنے والوں کو شامل فرمایا تا کہ وہ اپنی نیکی اور تقویٰ کی حالت کو مزید صیقل کرنے والے بنیں۔پس آج جو لوگ ایک نیک مقصد کے لئے یہاں آئے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمان بن کر یہاں آئے ہیں، دنیاوی اعزاز اور دنیاوی خدمت کی بجائے ان اعلیٰ مقاصد میں مزید ترقی کو اپنے پیش نظر رکھیں جو بیان ہوئے ہیں۔بے شک نظام جماعت کے تحت اس پاک اور بامقصد سفر کرنے والے مسافروں اور مہمانوں کے لئے خدمت کا نظام موجود ہے، لیکن جو للہی سفر اختیار کرنے والے ہوتے ہیں ان کی ان دنیاوی ضروریات اور آراموں کی طرف بہت کم توجہ ہوتی ہے اور اس اکٹھ اور جمع ہونے کی روح اور بنیادی مقصد سے فیض پانے کی زیادہ کوشش ہوتی ہے۔پس آپ اپنے آپ کو کبھی دنیاوی مسافروں اور مہمانوں کے زمرہ میں لانے کی کوشش نہ کریں۔اگر اس بات کو آپ سمجھ جائیں گے تو میز بانوں کی کمزوریوں اور کمیوں سے بھی آپ صرف نظر کرتے رہیں گے۔ورنہ بعض دفعہ یہ دیکھنے میں آیا ہے، یہ شکوہ ہو جاتا ہے کہ فلاں جگہ کے لوگوں کا بہتر انتظام ہے۔ان کو فلاں جگہ بہتر انتظام کے تحت رکھا گیا ہے اور ہماری طرف توجہ نہیں دی گئی حالانکہ انتظامیہ کی اس طرف پوری کوشش ہوتی ہے کہ ہر مہمان کو آرام پہنچایا جائے۔ہاں بعض غیر از جماعت مہمان ہوتے ہیں، یا بعض ایسے لوگ ہیں جو اپنی قوم کے لیڈر ہیں ان کے لئے علیحدہ انتظام کیا جاتا ہے اور یہ جائز ہے۔انتظامیہ تو حتی الوسع مہمانوں کے آرام اور سہولت کو پیش نظر رکھتی ہے۔پس میں شامل ہونے والے مہمانوں سے کہوں گا کہ اگر وہ اپنے سفر کے