خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 393 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 393

خطبات مسرور جلد ہشتم 393 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 23 جولائی 2010 نواسی (89) سال تھی، آج کل جرمنی میں تھیں۔آپ بہت دعا گو اور صابر شاکر ، صاحب رؤیا بزرگ خاتون تھیں۔خلافت کی بڑی سچی وفادار عاشق تھیں۔اپنی مرض الموت جو چند دن کی بیماری تھی اس میں بھی میرے متعلق یہی پوچھتی رہتی تھیں کہ ان کا کیا حال ہے؟ اپنی بیماری کی فکر نہیں تھی۔ہر ایک کے لئے نفع رساں وجود تھیں۔کسی کو دکھ نہیں دیا بلکہ دوسروں کے دکھوں کو اپنا لیا۔طبیعت میں قربانی اور ایثار کا بڑا مادہ تھا۔ایک دفعہ ان کو دعا کے لئے کہہ دیا جائے تو ہمیشہ دعائیں کرتی رہتی تھیں۔ہمیشہ ہر ایک کی معمولی نیکی کی بھی قدر کی۔قناعت ان میں بہت زیادہ تھی۔ایک زیور بنوایا تھا تو وہ مریم شادی فنڈ میں دے دیا۔پھر وفات سے پہلے ان کے پاس کچھ رقم جمع تھی تو فرمایا کہ یہ بھی بلال فنڈ میں دے دینا۔مرحومہ نے اپنے دو بھائیوں کی بیویوں کے وفات پا جانے کے بعد اپنے محدود وسائل کے باوجود ان کے بچوں کی تعلیم و تربیت کی۔ان کے پسماندگان میں دو بیٹیاں اور چار بیٹے ہیں۔دو بیٹے واقف زندگی ہیں۔ایک تو مکرم ڈاکٹر جلال سٹس صاحب ہیں جو آج کل ٹرکش ڈیسک کے انچارج ہیں۔اور دوسرے منیر جاوید پرائیویٹ سیکرٹری ہیں۔ان کے یہ دو بیٹے واقف زندگی ہیں۔اور ان کی ایک بیٹی مکرم حنیف محمود صاحب واقف زندگی جو ربوہ میں نائب ناظر اصلاح وارشاد ہیں، ان کی اہلیہ ہیں۔تو اس لحاظ سے ان کے تین بچے واقفین زندگی ہی سمجھے جائیں۔دو تو ابھی بھی واقف زندگی ہی ہیں۔واقف زندگی کی بیوی بھی واقف زندگی ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ مرحومہ کے درجات بلند فرمائے۔مغفرت کا سلوک فرمائے ، اور جیسا کہ میں نے کہا نماز جمعہ کے بعد ان کی نماز جنازہ ادا کی جائے گی۔الفضل انٹر نیشنل جلد 17 شماره 33 مورخہ 13 اگست تا 19 اگست 2010 صفحه 5 تا 8)