خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 392
خطبات مسرور جلد ہشتم 392 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 23 جولائی 2010 پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام دوست دشمن کی مہمان نوازی میں بھی فرق نہیں فرماتے تھے۔کئی مخالفین بھی آتے تھے ، لیکن اگر مہمان بن کر آئے ہیں تو خدام کو فرمایا کرتے تھے کہ ان کی مہمان نوازی کرو اور یہ کیونکہ مخالفین میں سے ہیں ہو سکتا ہے کہ بعض ایسی باتیں کر جائیں جو تمہاری دل شکنی کا باعث ہوں، لیکن تم لوگوں نے خاموش رہنا ہے ، ان کو جواب نہیں دینا۔ایسے کئی واقعات ہیں۔مثلاً ایک مولوی عبدالحکیم نصیر آبادی بڑا مخالف تھا اس کی مہمان نوازی کا آپ نے حکم دیا۔وہاں اپنے لنگر میں یا اس علاقہ میں تو نہیں ٹھہرایا ،باہر نواب صاحب نے ایک نیا مکان بنوایا تھا، اس کو وہاں اس کے کمرے میں ٹھہرایا تا کہ احتیاط کے تقاضے بھی پورے ہوں لیکن خدام کو مہمان نوازی کا حق بھی ادا کرنے کی تلقین فرمائی۔اور یہ بھی فرمایا کہ کسی قسم کی بات نہیں کرنی۔وہ کسی مباحثہ کے سلسلے میں آیا تھا۔لیکن پھر وہ اس کے بغیر ہی چلا گیا۔(ماخوذ از سیرت حضرت مسیح موعود جلد اول ص : 160-161 از حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی صاحب ) پھر اسی طرح ایک بغدادی مولوی کے نام سے مشہور تھا اس کا قصہ ہے۔وہ گالیاں نکالنے میں بھی شیر تھا کیونکہ یہ مولوی جو ہیں اس کام میں بہت شیر ہوتے ہیں۔بہر حال وہ خاص طور پر وہابیوں کے بڑا خلاف تھا۔حضور علیہ السلام نے اس کی مہمان نوازی فرمائی یعنی اس کا حکم دیا۔کسی نے اس بغدادی مولوی کو کہا کہ جن کی مہمان نوازی سے تم لطف اٹھا رہے ہو اور جن کے سامنے بیٹھ کر وہابیوں کو گالیاں دے رہے ہو، یہ بھی وہابی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس بات پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ گالیاں تو بہت زیادہ دیتا تھا لیکن میں نے اسے کبھی احساس نہیں ہونے دیا اور کہنے والے کا حضرت مسیح موعود کے متعلق یہ کہنا کہ یہ بھی وہابی ہیں، فرمایا کہ ایک لحاظ سے ٹھیک ہے کیونکہ میں بھی قرآن شریف کے بعد صحیح احادیث پر عمل کرناضروری سمجھتا ہوں۔(ماخوذ از سیرت حضرت مسیح موعود جلد اول ص: 161-162 از حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی صاحب) بہر حال ایسے کئی واقعات ہیں جن کی تفصیلات ہمارے لٹریچر میں، کتب میں موجود ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس عمل کو جو آپ علیہ السلام نے اپنے آقا و مطاع حضرت محمد مصطفی صلی اللہ یلم کے اسوہ کو دیکھ کر اپنایا ہم بھی اپنا کر عمل کرنے والے بنیں۔مہمانوں کا حق ادا کرنے والے بھی ہوں۔لیکن ساتھ ہی ایک بات میں کہنا چاہتا ہوں جیسا کہ پہلے بھی میں نے کہا، اپنی آنکھیں کھلی رکھ کر گردو پیش کا جائزہ بھی لیتے رہیں کیونکہ آج کل جماعت کی مخالفت اور دشمنی نے شرارتی عصر کو ہر قسم کی اخلاقی پابندیوں سے عاری کر دیا ہے۔اور نہ صرف اخلاقی، بلکہ کسی بھی قسم کی شرارت کی ان سے توقع کی جاسکتی ہے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو احسن رنگ میں اپنی ذمہ داریاں نبھانے کی توفیق عطا فرمائے اور ہر شر سے محفوظ رکھے۔نماز جمعہ کے بعد میں ایک جنازہ غائب بھی پڑھاؤں گا جو مکرمہ مبارکہ بیگم صاحبہ اہلیہ صوفی نذیر احمد صاحب کا ہے، جو 14 جولائی 2010ء کو مختصر علالت کے بعد وفات پاگئیں۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔ان کی عمر