خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 365 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 365

365 خطبات مسرور جلد ہشتم خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09 جولائی 2010 سامان پید افرمائے اور ان کے بہتر حالات کے سامان پیدا فرمائے۔پس ان شہداء کے ورثاء کو بھی دعاؤں میں یاد رکھیں اور احباب جماعت اپنے لئے بھی دعائیں کریں۔اللہ تعالیٰ ہمیں بھی دشمن کے ہر شر سے محفوظ رکھے۔کیونکہ دعاؤں کی آج کل بہت زیادہ ضرورت ہے۔پاکستان میں حالات جو ہیں وہ بد تر ہی ہو رہے ہیں۔کوئی فرق نہیں پڑا اس سے، مخالفت بڑھتی چلی جارہی ہے۔اللہ تعالیٰ ہر شر سے بچائے اور اُن شریروں کے شر اُن پر الٹائے اور ہمیں، ہر احمدی کو ثبات قدم عطا فرمائے۔آخر میں ابھی میں نماز جمعہ کے بعد ایک نماز جنازہ غائب پڑھاؤں گا اس کا اعلان کرتا ہوں۔یہ مکرم نذیر شفیق المراد نی صاحب سابق امیر جماعت سیر یا کا نماز جنازہ ہے۔30 جون 2010ء کو 67 سال کی عمر میں ان کی وفات ہوئی۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔آپ ایف اے کرنے کے بعد چھ سال تک شیخ ہاشم کے ہاں شریعت پڑھتے رہے۔آپ کا گھر دمشق کے محلہ شاغور میں تھا جہاں مکرم منیر الحصنی صاحب جو امیر شام تھے وہ رہتے تھے۔آپ بچپن سے ان کو جانتے تھے۔اسی زمانے میں آپ کو ان کی خدمت کا شرف بھی حاصل ہوا۔اور نذیر صاحب نے 1963ء میں جماعت کے بعض عقائد سنے اور بیعت کر لی۔آپ دمشق میں اربن ٹرانسپورٹ کے انچارج تھے۔حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی نے 1986ء میں آپ کو شام کا پہلا صدر مجلس انصار اللہ اور 1988ء میں مکرم منیر الحصنی صاحب کی وفات کے بعد بلادِ شام کا امیر مقرر فرمایا۔1989ء میں سیریا کے نامناسب حالات ہونے کی وجہ سے وہاں امارت ختم کر دی گئی۔ان حالات میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے جماعت سیریا سے فرمایا کہ اصحاب رقیم بن جائیں۔تو آپ نے کتابیں لکھنی شروع کر دیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ کی آٹھ کتابیں چھپ چکی ہیں۔وفات سے قبل بھی آپ ایک کتاب تصنیف کر رہے تھے۔آپ کو 1996ء میں جلسہ سالانہ انگلستان میں شمولیت کی توفیق ملی۔اور اس جلسہ کے بعد آپ ساری زندگی خلیفہ وقت کی مہمان نوازی اور نوازشوں کا ذکر کرتے رہے۔آپ نہایت سادہ مگر مزاحیہ اور شگفتہ طبیعت کے مالک تھے۔واقفین کی بہت عزت کرتے تھے۔وہاں ہمارے بعض واقف زندگی تعلیم حاصل کرنے جاتے ہیں اور دمشق آنے والے تمام سٹوڈنٹس کا بہت خیال رکھتے تھے۔خلافتِ احمدیہ سے آپ کو ایک عشق کا تعلق تھا جو خلافت کا ذکر آنے پر آپ کی آنکھوں اور آواز سے جھلکتا تھا۔صابر ایسے تھے کہ بڑی سے بڑی تکلیف پر بھی دل سے شکر وحمد کے گیت گایا کرتے تھے۔باوفا دوست اور ایک مستقل مزاج احمدی تھے۔اپنے سسرال سے ایسا اپنائیت اور محبت سلوک تھا۔کہ آپ کی نسبتی بہن آپ کو اپنا والد سمجھتی تھی۔مکرم محمد مسلّم الدروبی صاحب جو آج کل سیریا کے صدر جماعت ہیں بیان کرتے ہیں کہ جب مجھے شام کا نیشنل صدر مقرر کیا گیا تو آپ نے ایسی اطاعت اور عاجزی اور اخلاص کا اظہار کیا کہ میں حیران رہ گیا۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔الفضل انٹر نیشنل جلد 17 شماره 1،32 3 مورخہ 30 جولائی تا 12 اگست 2010 صفحہ 5 تا9)