خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 364 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 364

خطبات مسرور جلد ہشتم 364 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09 جولائی 2010 نمایاں ہو کر چمک رہی ہے۔اور وہ ہے جماعتی غیرت کا بے مثال اظہار۔اطاعت نظام کا غیر معمولی نمونہ، جماعت کے لئے وقت قربان کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہنا اور کرنا، دین کو دنیا پر مقدم رکھتے ہوئے سارے حقوق کی ادائیگی کے باوجود، ساری ذمہ داریوں کے حقوق کی ادائیگی کے باوجود جماعت کے لئے وقت نکالنا۔اور صرف ہنگامی حالت میں ہی نہیں بلکہ عام حالات میں بھی کئی کئی گھنٹے وقت دینا۔اور بعض اوقات کھانے پینے کا بھی ہوش نہ رہنا۔اور پھر یہ کہ خلافت سے غیر معمولی تعلق ، محبت اور اطاعت کا اظہار۔یہ اظہار کیوں تھا؟ اس لئے کہ آنحضرت صلی ا ہم نے فرمایا تھا کہ مسیح موعود اور مہدی موعود کے بعد جو دائمی خلافت کا سلسلہ چلنا ہے اس نے مومنین کے جذبہ وفا اور اطاعت اور خلافت کے لئے دعاؤں سے ہی دائمی ہونا ہے۔پس یہ لوگ تھے جنہوں نے عبادات اور اعمالِ صالحہ کے ذریعے سے نظام خلافت کو دائمی رکھنے کے لئے آخر دم تک کوشش کی اور اس میں نہ صرف سر خرو ہوئے بلکہ اس کے اعلیٰ ترین معیار بھی قائم کئے۔یہ لوگ اپنے اپنے دائرے میں خلافت کے دست و بازو بنے ہوئے ہیں۔یہ سلطانِ نصیر تھے خلافت کے لئے جن کے لئے خلیفہ وقت دعا کر تا رہتا ہے کہ مجھے عطاہوں۔اللہ تعالیٰ ان سب کے درجات بلند فرما تار ہے۔اپنے پیاروں کے قرب سے ان کو نوازے۔یہ شہداء تو اپنا مقام پاگئے ، مگر ہمیں بھی ان قربانیوں کے ذریعے سے یہ توجہ دلا گئے ہیں کہ اے میرے پیارو! میرے عزیزو! میرے بھائیو! میرے بیٹو! میرے بچو! میری ماؤں! میری بہنو! اور میری بیٹیو! ہم نے تو صحابہ کے نمونے پر چلتے ہوئے اپنے عہد بیعت کو نبھایا ہے مگر تم سے جاتے وقت یہ آخری خواہش کا اظہار کرتے ہیں کہ نیکیوں اور وفا کی مثالوں کو ہمیشہ قائم رکھنا۔بعض مردوں نے اور عورتوں نے مجھے خط بھی لکھے ہیں کہ آپ آج کل شہداء کا ذکر خیر کر رہے ہیں، ان کے واقعات سن کر رشک بھی آتا ہے کہ کیسی کیسی نیکیاں کرنے والے اور وفا کے دیپ جلانے والے وہ لوگ تھے۔اور پھر شرم بھی آتی ہے کہ ہم ان معیاروں پر نہیں پہنچ رہے۔ان کے واقعات سن کر افسوس اور غم کی حالت پہلے سے بڑھ جاتی ہے کہ کیسے کیسے ہیرے ہم سے جدا ہو گئے۔یہ احساس اور سوچ جو ہے بڑی اچھی بات ہے لیکن آگے بڑھنے والی قومیں صرف احساس پیدا کرنے کو کافی نہیں سمجھتیں بلکہ ان نیکیوں کو جاری رکھنے کے لئے پیچھے رہنے والا ہر فرد جانے والوں کی خواہشات اور قربانیوں کے مقصد کو پورا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔پس ہمارا کام ہے اور فرض ہے کہ اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرتے ہوئے ان قربانیوں کا حق ادا کریں۔ان کے بیوی بچوں کے حق بھی ادا کر کے اپنی ذمہ داریوں کو نبھائیں۔ان کے چھوٹے بچوں کی تربیت کے لئے جہاں نظام جماعت اپنے فرض ادا کرے وہاں ہر فرد جماعت ان کے لئے دعا بھی کرے۔اللہ تعالیٰ تمام لواحقین کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔ان کی پریشانیوں ، دکھوں اور تکلیفوں کو دور فرمائے اور خود ہی ان کا مداوا کرے۔انسان کی کوشش جتنی بھی ہو اس میں کمی رہ جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ ہی ہے جو صحیح تسکین کے سامان پیدا فرماتا ہے۔اللہ تعالیٰ ان کے لئے تسکین کے