خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 366 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 366

خطبات مسرور جلد ہشتم 29 29 366 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 16 جولائی 2010 خطبہ جمعہ فرمودہ 16 جولائی 2010ء بمطابق 16 وفا 1389 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، لندن (برطانیہ) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے مطابق آنحضرت صلی علیکم کی بعثت ثانیہ جو آپ صلی الی ظلم کے عاشق صادق کی صورت میں ہوئی، جس کو اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود اور مہدی موعود اور امتی نبی بنا کر بھیجا۔جنہوں نے اپنے ساتھ پاک دل اور سعید فطر توں کو جوڑ کر وہ جماعت قائم فرمائی جو نیکیوں میں بڑھتے چلے گئے ، اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرتے چلے گئے اور اولین کے ساتھ مل گئے۔آج میں اس دورِ آخرین کے ان چند اولین کی روایات پیش کروں گاجو براہ راست حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت سے فیض یاب ہوئے، آپ کی صحبت میں رہے، آپ کو دیکھا اور آپ کے حسن و احسان سے فیض پایا۔ان روایات میں جہاں ان حق کے متلاشیوں کی اپنی سعید فطرت کی جھلک نظر آتی ہے۔وہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی شفقتوں، محبتوں، قوتِ قدسی اور مقام کا بھی پتہ چلتا ہے جس سے انسان ایک منفر د قسم کا روحانی حظ اٹھاتا ہے۔ان بزرگوں کے لئے دعائیں بھی نکلتی ہیں جنہوں نے اپنی روایات ہم تک پہنچا کر جہاں ہمیں اپنے جائزے لینے کی طرف توجہ دلائی، وہاں اس عاشق صادق کے حسن اور اپنی جماعت کے بارہ میں جو دلی تمنا تھی اس کی تصویر کشی کی ہوتی ہے۔ان روایات میں سے پہلی روایت ہے حضرت میاں فیروز الدین صاحب سیالکوٹ کی، جنہوں نے 1892ء میں بیعت کی تھی۔یہ کہتے ہیں کہ حضرت اقدس نے لیکچر سیالکوٹ میر حسام الدین صاحب کے مکان کی چھت پر لکھا تھا۔باہر دوا تیں چاروں دیواروں پر رکھی ہوئی تھیں۔اس میں سیاہی تھی۔تقریبا عصر کا وقت تھا۔حضور ٹہلتے ٹہلتے لکھتے تھے اور کبھی کبھی سجدے میں بھی گر جاتے تھے۔یہ تمام نظارہ ہم نے اپنے مکان کی چھت پر کھڑے ہو کر دیکھا تھا۔اور بھی بہت سے لوگ ہمارے مکان پر سے نظارہ دیکھنے کے لئے جمع ہو گئے تھے۔ہمارا مکان اس مکان سے نزدیک تھا اور اونچا بھی تھا۔اس سے تمام نظارہ دکھائی دیتا تھا۔جس قدر ورق حضور لکھ لیتے تھے ، نیچے کاتب کے پاس بھیجتے جاتے تھے۔کاتب سراج دین ساہو والے کا رہنے والا تھا، جب حضور مہمانوں کی سرائے میں