خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 363
خطبات مسرور جلد ہشتم 363 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 09 جولائی 2010 پس یہ شہداء جو شہادت کے مقام پر پہنچے یقیناً یہ شہادت کا رتبہ ان کے لئے عبادتوں کی قبولیت اور حقوق العباد کی ادائیگی کا حق ادا کرنے کی سند لئے ہوئے ہے۔پھر ہم دیکھتے ہیں کہ صرف اپنی عبادتوں اور حسن اخلاق پر ہی ان لوگوں نے بس نہیں کی بلکہ اپنی ذمہ داریوں کی جزئیات کو بھی نبھایا۔ایک باپ اپنے گھر کا راعی ہے اور بچوں کی تعلیم و تربیت اور نگرانی اس کی ذمہ داری ہے تو ان لوگوں نے اس فریضے کی ادائیگی کی طرف بھی توجہ دی ، اور یہ توجہ ہمیں ہر شہید میں مشترک نظر آتی ہے۔اس قرآنی حکم کو انہوں نے اپنے پیش نظر رکھا کہ وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ خَشْيَةً إِمْلَاقٍ (بنی اسرائیل: 32)۔کہ تم مفلسی کے خوف سے اولاد کو قتل نہ کرو۔اپنے کاروباروں میں اس قدر محو نہ ہو جاؤ کہ یہ خیال ہی نہ رہے کہ اولاد کی تربیت بھی ہماری ذمہ داری ہے۔یہ لوگ اپنے اس عہد کو بھولے نہیں کہ دین کو دنیا پر مقدم رکھنا ہے۔اور اس عہد کی پاسداری کی خاطر انہوں نے اپنے کاموں کی جگہوں سے فون کر کر کے گھر میں بیوی کو یاد کروایا کہ بچوں کو نماز پڑھوا دو کہ دین کو مقدم کرنے کی ابتدا تو نمازوں سے ہی ہوتی ہے۔ایک بچی نے باپ کی تربیت کا یہ اسلوب بتایا کہ لمبے تفریحی سفر پر ہمارے ابا ہمیں ساتھ لے جاتے تھے اور راستے میں مختلف دعائیں پڑھتے رہتے تھے اور اونچی آواز میں اور بار بار پڑھتے تھے کہ ہمیں بھی دعائیں یاد ہو جائیں ، اور ہمیں ان سے یاد ہو گئیں اور پھر صرف دعائیں یاد ہی نہیں کروائیں بلکہ یہ بھی کہ کس موقع پر کون سی دعا کرنی ہے ؟ تو یہ تھے ان جانیں قربان کرنے والوں کے اپنی اولاد کے لئے تربیت کے اسلوب۔پھر نوجوان تھے جن کے والدین بفضلہ تعالیٰ حیات ہیں۔ان کے حقوق بھی ہمہ وقت ان جو ان شہیدوں نے ادا کئے۔والدین بیمار ہیں تو رات دن ان کی خدمت میں ایک کر دیئے۔خدا تعالیٰ کے حکم کہ والدین سے حسن سلوک کرو اور ان کی کسی سخت بات پر بھی اُف کا کلمہ منہ سے نہ نکالو اس کا حق ادا کر دیا ان لوگوں نے۔پھر بعض دفعہ یہ ہوتا ہے کہ شادی شدہ جو ان اگر ماں باپ کا حق ادا کر رہے ہیں تو بیوی کا حق بھول جاتے ہیں، اگر بیوی کا حق ادا کرنے کی طرف توجہ ہے تو ماں باپ کا حق بھول جاتے ہیں۔لیکن ان مومنوں نے تو مومن ہونے کا اس بارے میں بھی حق ادا کر دیا۔بیویاں کہہ رہی ہیں کہ والدین کے حق کے ساتھ ہمارا اس قدر خیال رکھا کہ کبھی خیال ہی دل میں پیدا نہیں ہونے دیا کہ ہماری حق تلفی تو کجا ہلکی سی جذباتی تکلیف بھی پہنچائی ہو۔اور ماں باپ کہہ رہے ہیں کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے حق ادا کر نے کی کوشش میں کہیں بیوی کے حق کی ادائیگی میں کمی نہ کی ہو۔پس یہ اعتماد اور یہ حقوق کی ادائیگی ہے جو حسین معاشرے کے قیام اور اپنی زندگی کو بھی جنت نظیر بنانے کے لئے ان لوگوں نے قائم کیا اور پھر اللہ تعالیٰ نے بھی کتنا بڑا اجر عطا فرمایا کہ دائمی زندگی کی ضمانت دے دی۔17، 18 سال کا نوجوان ہے تو اس کی طبیعت کے بارے میں بھی ماں باپ اور قریبی تعلق رکھنے والے ، بلکہ جس کالج میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں وہ نوجوان کہہ رہے تھے، ان سب کی رائے یہ ہے کہ یہ عجیب منفر د قسم کا اور منفرد مزاج کا بچہ تھا۔پھر ان سب میں ایک ایسی قدرِ مشترک ہے جو