خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 362
خطبات مسرور جلد ہشتم 362 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09 جولائی 2010 تھے۔کبھی گھر میں سالگرہ منانے اور تحائف دینے کی بات ہوتی تو سخت نا پسند کرتے اور کہتے کہ آپ کو پتہ نہیں کہ حضور نے منع فرمایا ہے بلکہ کہتے کہ یہ پیسے جماعت کی کسی مد میں دے دو تو زیادہ اچھا ہے۔چند دن ہسپتال میں رہے پھر اس کے بعد ان کی شہادت ہوئی ہے۔یہ اب شہداء کا ذکر تو ختم ہوا۔یہ ذکر جو میں نے شہداء کا کیا ہے اس میں ہمیں ان سب میں بعض اعلیٰ صفات قدر مشترک کے طور پر نظر آتی ہیں۔ان کا نمازوں کا اہتمام اور نہ صرف خود نمازوں کا اہتمام بلکہ اپنے بچوں اور گھر والوں کو بھی اس طرف توجہ دلانا۔کوئی اپنے کام کی جگہ سے فون کر کے بچوں کو نماز کی یاد دہانی کروارہا ہے تو کوئی مسجد اور نماز سینٹر دور ہونے کی وجہ سے گھر میں ہی نماز با جماعت کا اہتمام کر رہا ہے۔کیوں؟ اس لئے کہ انہیں فکر تھی کہ نمازیں ان کی اور ان کے اہل کی اس دنیا میں بھی اور اخروی زندگی میں بھی خیر اور بھلائی کی ضمانت ہیں۔اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کا قرب پانے کے راستے عبادات سے ہی متعین ہوتے ہیں۔ان سب میں ہم نماز جمعہ کا خاص اہتمام دیکھتے ہیں۔بعض نوجوان گھر سے تو یہ کہہ کر نکلتے تھے کہ شاید کام کی وجہ سے جمعہ پر نہ جاسکیں، لیکن جب جمعہ کا وقت آتا تھا تو سب دنیاوی کاموں کو پس پشت ڈال کر جمعہ کے لئے روانہ ہو جاتے تھے۔پھر بہت سے ایسے ہیں جو تہجد کا التزام کرنے والے ہیں۔بعض اس کوشش میں رہتے تھے کہ نوافل اور تہجد کی ادائیگی ہو۔اکثر نوجوان شہداء میں بھی اور بڑی عمر کے شہداء میں بھی یہ خواہش بڑی شدت سے نظر آتی ہے کہ ہمیں شہادت کا رتبہ ملے۔پھر ہم دیکھتے ہیں کہ دوسرے اخلاق حسنہ کس کثرت سے ان میں نظر آتے ہیں۔یہ اخلاق حسنہ جو ہیں، گھریلو زندگی میں بھی ہیں اور گھر سے باہر زندگی میں بھی ہیں۔جماعتی کارکنوں اور ساتھیوں کے ساتھ جماعتی خدمات کی بجا آوری کے وقت بھی ان اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ ہو رہا تھا تو اپنے کام اور کاروبار کی جگہوں پر بھی اپنے ساتھ کام کرنے والوں کو اپنے اعلیٰ اخلاق سے اپنا گرویدہ بنایا ہوا تھا۔مرد کے اعلیٰ اخلاق اس کے اپنے اہل کی اس کے اخلاق کے بارے میں گواہی سے پتہ چلتے ہیں۔بعض دفعہ مرد باہر تو اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کر رہے ہوتے ہیں۔لیکن گھر میں بیوی بچوں کے ساتھ حسن سلوک نہیں کر رہے ہوتے۔ایک شادی شدہ مرد کی سب سے بڑی گواہ تو اس کی بیوی ہے۔اگر بیوی کی گواہی اپنے خاوند کی عبادتوں اور حسن سلوک کے بارے میں خاوند کے حق میں ہو تو یقیناً یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ شخص اللہ تعالیٰ کا خوف رکھتے ہوئے حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کرنے والا تھا۔پھر ان شہداء کے حسن اخلاق کی گواہی صرف بیوی نہیں دے رہی بلکہ معاشرے میں ہر فرد جس کا ان سے تعلق تھا ان کے حسن اخلاق کا گواہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی اس مضمون کو بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ جو حقوق العباد کی ادائیگی نہیں کرتا، بیوی بچوں اور عزیزوں کے حق ادا نہیں کرتا، وہ خدا تعالیٰ کے حق بھی ادا نہیں کرتا۔اگر وہ بظاہر نمازیں پڑھنے والا ہے بھی تو حقوق العباد ادانہ کرنے کی وجہ سے اس کی عبادتیں رائیگاں چلی جاتی ہیں۔