خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 361
خطبات مسرور جلد ہشتم 361 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09 جولائی 2010 تھے کہ شہادت کے لئے فوج ہی اچھا ذریعہ ہے۔یہ ان لوگوں کو بھی جواب ہے جو کہتے ہیں کہ جماعت احمد یہ ملک کے خلاف ہے۔ان میں ملک کی خدمت کا جذبہ اس طرح کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔کہتی ہیں کہ مجھے اکثر کہا کرتے تھے کہ دیکھنا جب بھی جماعت کو کوئی ضرورت ہوئی تو عمر پہلی صف میں ہو گا اور سینے پر گولی کھائے گا۔اور یہ جو خط لکھا تھا میجر عزیز بھٹی شہید کو اس کے نیچے بھی لکھا تھا ” میجر عمر شہید “۔گھر پر ہوتے تو مسجد میں جا کر نماز ادا کرتے۔نماز مغرب پر مسجد جاتے اور عشاء پڑھنے کے بعد کچھ نہ کچھ جماعتی کام کرنے کے بعد واپس آتے، یہ ان کا معمول تھا۔خدام الاحمدیہ میں نہایت مستعد تھے۔سال میں ایک دو دفعہ وقف عارضی پر جاتے تھے۔خدمتِ خلق کا بے انتہا شوق تھا۔سال میں دو دفعہ ضرور خون کا عطیہ دیا کرتے تھے۔جس دن دارالذکر میں زخمی ہوئے اس دن صبح دفتر جانے کے لئے جلدی میں نکلے یہ کہتے ہوئے کہ مجھے دیر ہو رہی ہے۔چونکہ ان کے آفس سے مسجد دارالذکر قریب پڑتی تھی اس لئے وہ جمعہ وہیں پڑھتے تھے۔میری چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی ضرورت کا خیال رکھا۔اپنی بیٹی سے جو کہ اب آٹھ ماہ کی ہو گئی ہے بہت پیار کرتے تھے۔دفتر سے آکر اس کے ساتھ بہت دیر تک کھیلتے تھے۔اس کے بارے میں کسی بھی قسم کی بے احتیاطی برداشت نہیں کرتے تھے۔اہلیہ لکھتی ہیں کہ صرف اپنی بیٹی ہی نہیں بلکہ تمام بچوں سے بہت شفقت کا سلوک کرتے اور کہتے تھے کہ بچے معصوم ہوتے ہیں اس لئے مجھے پسند ہیں۔لکھتی ہیں کہ شہادت سے قریباً دو ماہ قبل میں نے خواب میں دیکھا کہ عمر کی دوسری شادی ہو رہی ہے اور میں زار و قطار رو رہی ہوں۔اس خواب کا ذکر میں نے عمر سے بھی کیا لیکن انہوں نے ہنس کر ٹال دیا۔لکھتی ہیں کہ بہت زیادہ صفائی پسند تھے۔اسی طرح دل کے بھی بہت صاف تھے۔کبھی کسی کو تکلیف نہ دی۔سخت گرمی میں بھی، پاکستان میں گرمی بہت شدید ہوتی ہے ہر ایک جانتا ہے دو پہر کو آفس سے آتے تو ہلکی سی گھنٹی بجاتے تاکہ کوئی ڈسٹرب نہ ہو۔اکثر اوقات تو کافی کافی دیر آدھ آدھ گھنٹہ تک باہر ہی خاموش کھڑے رہتے۔آفس کے تمام لوگ بے حد تعریف کرتے تھے۔یہ گور نمنٹ ریسرچ کے ادارے میں تھے اور وہ کہتے تھے کہ ہمارا ایک بہت ہی پیارا بچہ ہم سے علیحدہ ہو گیا۔آفس کا تمام سٹاف گھر افسوس کرنے کے لئے آیا۔جب بھی کوئی پریشانی ہوتی تو فوراً خلیفہ وقت کو خط لکھتے۔اور کہتی ہیں مجھے بھی کہتے تھے کہ خط ضرور لکھا کرو۔میرے والدین اور تمام عزیز رشتے داروں کی بہت زیادہ عزت کیا کرتے تھے۔اپنے دوستوں کی بہت عزت کرتے تھے۔ان کے لئے ضرور تھوڑا بہت وقت نکالتے۔خلیفہ وقت کی طرف سے جو بھی تحریک ہوتی چاہے وہ دعاؤں کی ہو ، روزہ ہو، تہجد ہو ، صدقات ہوں فوراً اس پر کمر بستہ ہو جاتے۔تمام چندہ جات بر وقت ادا کرتے اور ہمیشہ صحیح آمد پر چندہ بنواتے تھے، بجٹ بنواتے تھے۔23 مئی کو انہوں نے چندہ حصہ آمد کی آخری قسط جو کہ ساڑھے نو ہزار روپے تھی ادا کی اور گھر آکر مجھے اور باقی سب گھر والوں کو بڑی خوشی سے بتایا کہ شکر ہے کہ آج چندہ پورا ہو گیا۔جب سے سیدنا بلال فنڈ کا اجراء ہوا اس وقت سے اس فنڈ میں باقاعدگی سے چندہ دیتے