خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 360
خطبات مسرور جلد ہشتم 360 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09 جولائی 2010 کون سا دن ہے؟ کیونکہ گھر والے تمام غیر از جماعت ہیں، تو وہ نہ بتاتے تھے کہ آج جمعہ ہے۔شہید مرحوم نے ایک فقیر کے آنے کی نشانی رکھی ہوئی تھی کہ یہ فقیر جمعہ کو آتا ہے، کبھی بھول جاتے تو اس فقیر کو دیکھ کر یاد آجاتا کہ آج جمعہ ہے۔ایک دن فقیر نہ آیا لیکن اچانک ایک بیٹی نے یاد دلایا کہ آج جمعہ ہے اور بغیر کھانا کھائے ہی جلدی میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے گھر سے نکل گئے۔بڑے بیٹے نے بتایا کہ عموماً رات کو بستر پر نہ ہوتے۔جب ان کو ڈھونڈھتے تو جائے نماز پر نماز ادا کر رہے ہوتے۔بچوں کو کہا کرتے تھے کہ مجھے اہل بیت آنحضرت صلی الظلم سے محبت ہے اور تم کو نہیں ہے۔میں نے خواب میں اہل بیت سے ملاقات بھی کی ہے۔بیٹے نے مزید بتایا کہ عموماً دس محرم کو روزہ رکھا کرتے تھے۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورہ کوئٹہ کا بہت ذکر کیا کرتے تھے کہ جب حضور کا پارک ہاؤس والی کو ٹھی میں قیام تھا تو انہوں نے وہاں پر دن رات مرمت وغیرہ کا کام کیا۔جب حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لائے تو فرماتے تھے کس نے کام کروایا ہے۔دیواروں سے خلوص ٹپک رہا ہے۔اسی قیام کے دوران ایک دن پانی کا پائپ لیک (Leak) کر رہا تھا تو ٹھیک نہ کر سکا، تو حضور نے فرمایا کہ محمد حسین کو بلاؤ وہ ٹھیک کر دے گا۔اور جب انہوں نے ٹھیک کر دیا تو بہت خوش ہوئے۔فرمایا دیکھو میں نے کہا تھا ناں کہ محمد حسین ٹھیک کر دے گا۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند کرے اور ان کی اولاد کو بھی احمدیت حقیقی اسلام کو پہچاننے کی توفیق عطا فرمائے۔یہ واقعات تو ایسے ہیں کہ اگر ان کی تفصیلات میں جایا جائے تو یہ لمبا سلسلہ چلا جائے گا۔اس لئے میں نے مختصر بیان کئے ہیں، لیکن ایک شہید کا ذکر جو پہلے ہو چکا ہے وہ بہت ہی مختصر تھا ان کی اہلیہ نے بعد میں کچھ کو ائف بھیجے ہیں، اس لئے ان کا مختصر ذکر میں دوبارہ کر دیتا ہوں۔مکرم ڈاکٹر عمر احمد صاحب ڈاکٹر عمر احمد صاحب شہید ہیں۔ان کی اہلیہ نے لکھا کہ میرا اور ان کا ساتھ تو صرف ڈیڑھ سال کا ہے لیکن اس عرصے میں مجھے نہایت ہی پیار کرنے والے شفیق، کم گو اور سادہ طبیعت انسان کے ساتھ رہنے کا موقع ملا۔بچپن سے ہی شہادت کا شوق تھا۔دوسری اور تیسری کلاس میں تھے کہ میجر عزیز بھٹی کو خط لکھا کہ مجھے آپ بہت اچھے لگتے ہیں۔عزیز بھٹی شہید فوجی تھے پاکستان کے ، ان کا کتاب میں ذکر تھا۔اور ایک فرضی خط لکھا کہ مجھے آپ بہت اچھے لگتے ہیں میں بھی آپ کی طرح شہید ہونا چاہتا ہوں۔یہ مختصر خط ان کی والدہ کے پاس محفوظ ہے۔شادی کے بعد اکثر شہادت کے موضوع پر بات کرتے رہتے تھے۔ایک دن کہنے لگے کہ میں نے بہت ہی غور کیا ہے اور میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ جنت میں جانے کا واحد شارٹ کٹ شہادت ہے۔لیکن میری قسمت میں کہاں ؟ انہوں نے دو دفعہ آرمی میں کمیشن کی کوشش کی تھی لیکن دونوں دفعہ آخری سٹیج پر رہ گئے۔اس کا انہیں بہت دکھ تھا۔وہ خیال کرتے