خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 359
خطبات مسرور جلد ہشتم 359 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09 جولائی 2010 ان کا نماز جنازہ غائب ادا کیا گیا۔شہید مرحوم چندہ جات کی ادائیگی میں با قاعدہ تھے اور نمازی بھی تھے۔خاندان میں شدید مخالفت کے باوجود شہادت پانے تک مضبوطی سے احمدیت پر قائم رہے۔ان کے بارہ میں صدر صاحب نے مزید لکھا ہے کہ مین بازار میں ان کی اپنی قیمتی جائیداد تھی۔ان کی دکانیں تھیں، دکانوں پر بھیجوں نے زندگی میں ہی قبضہ جمالیا تھا۔ایسے حالات میں ساری عمر سادہ زندگی بسر کی۔خاندان کی مخالفت بھی برداشت کی لیکن احمدیت سے تعلق نہ توڑا اور نہ کمزور ہونے دیا۔شہادت تک باقاعدہ بجٹ کے ممبر تھے گو آمد نہ ہونے کے برابر رہ گئی تھی مگر ادا ئیگی کرتے تھے۔پرانی وضع کے آدمی تھے۔سادہ لباس اور باقاعدگی سے جمعہ کی ادائیگی کے لئے سائیکل پر بیت النور وقت پر پہنچتے تھے اور پہلی صف میں بیٹھتے تھے۔ہر ایک کو بڑی گرمجوشی سے ملتے تھے اور جب مسجد میں آتے تھے تو بڑا وقت گزارتے تھے کہ جتنا زیادہ وقت احمدیوں کے درمیان میں گزرے اتنا اچھا ہے۔انہوں نے باوجود مخالفت کے گھر کے اندر اور باہر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور خلفاء کی تصویریں لگائی ہوئی تھیں۔عہدیداروں سے عقیدت رکھتے تھے۔تبلیغ کا شوق جنون کی حد تک تھا۔جہاں آپ کی رہائش ہے وہاں مخالفین کی سر گرمیاں عروج پر ہیں مگر کسی خوف کے بغیر دعوت الی اللہ جاری رکھتے تھے۔مکرم محمد حسین صاحب اگلا ذکر ہے مکرم محمد حسین صاحب شہید ابن مکرم نظام دین صاحب کا۔شہید مرحوم کے خاندان کا تعلق ضلع گورداسپور سے تھا۔آپ کی پیدائش بھی وہیں ہوئی۔کوئی دنیاوی تعلیم حاصل نہیں کی۔لیکن قرآن مجید پڑھنا جانتے تھے۔مکرم شیخ فضل حق صاحب سابق صدر جماعت سٹی کے ذریعے بیعت کر کے جماعت احمدیہ میں شامل ہوئے۔ان کے خاندان میں خود یہ اور ان کی ایک بہن احمدی تھی۔مکرم انعام الحق کو ثر صاحب مربی سلسلہ شکاگو امریکہ کے ماموں تھے۔کچھ عرصہ ایم ای ایس لیبر سپر وائزر کے طور پر کام کرتے رہے۔کارپینٹر کی حیثیت سے بھی کام کیا۔ملازمت کے بعد کو ئٹہ میں فرنیچر کی دکان بھی تھی۔فرقان فورس میں خدمت کی توفیق پائی۔بوقت شہادت ان کی عمر 80 سال تھی اور مسجد دارالذکر میں جام شہادت نوش فرمایا۔جمعہ کے روز صدقہ دینا ان کا معمول تھا۔گھر سے گیارہ بجے تیار ہو کر نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے نکل پڑتے۔سانحہ کے روز مسجد دارالذکر کے مین ہال میں موجود تھے۔ان کی نعش دیکھی گئی تو ان کے دائیں جانب کا سارا حصہ جل چکا تھا۔پیٹ پر بھی کافی زخم تھے۔غالباً گرنیڈ پھٹنے سے شہادت ہوئی ہے۔شام کو میو ہسپتال سے ان کے غیر از جماعت لواحقین ان کی نعش لے گئے اور جنازہ اور تدفین بھی انہوں نے ہی کی۔اہل خانہ کے مطابق شہید مرحوم نماز کے پابند تھے۔چندہ جات با قاعدگی سے ادا کرتے تھے۔باوجود اس کے کہ مالی حالت زیادہ اچھی نہ تھی اپنی ضروریات سے بچا کر غریب اور ضرور تمندوں کی بلا تفریق مذہب و ملت مدد کرتے تھے۔جماعت سے بہت مضبوط تعلق تھا۔اہل خانہ نے مزید بتایا کہ عام طور پر نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے پہلی صفوں میں بیٹھتے تھے۔بڑھاپے کی وجہ سے یہ یاد نہ رہتا تھا کہ آج