خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 355
خطبات مسرور جلد هشتم 355 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09 جولائی 2010 مکرم و سیم احمد صاحب اگلا ذکر ہے مکرم وسیم احمد صاحب شہید ابن مکرم عبد القدوس صاحب آف پون نگر کا۔شہید مر حوم کا تعلق حضرت میاں نظام دین صاحب رضی اللہ عنہ جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے ہاتھ پر بیعت کی تھی اور حضرت بابو قاسم دین صاحب رضی اللہ عنہ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان سے ہے۔حضرت بابو قاسم دین صاحب رضی اللہ عنہ کافی لمبا عرصہ سیالکوٹ کے امیر مقامی اور امیر ضلع رہے ہیں۔یہ خاندان اسی محلے سے تعلق رکھتا ہے جس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام دعوی سے قبل دورانِ ملازمت قیام پذیر رہے اور دعویٰ کے بعد اسی جگہ پر آکر قیام فرماتے تھے۔سیالکوٹ میں ایف ایس سی کے بعد یونیورسٹی آف پنجاب لاہور میں سپیس (Space) سائنس میں بی ایس سی میں ان کو سیلیکٹ کیا گیا۔پھر اسی یونیورسٹی سے ایم ایس سی کمپیوٹر سائنس میں کیا۔شہادت سے قبل سوفٹ وئیر کی ایک فرم میں بطور مینجر کام کر رہے تھے۔بطور ناظم اطفال مجلس علامہ اقبال ٹاؤن خدمت کی توفیق پارہے تھے۔بوقتِ شہادت ان کی عمر 38 سال تھی اور نظام وصیت میں شامل تھے۔مسجد دارالذکر میں جام شہادت نوش فرمایا۔شہید مرحوم ہمیشہ نماز جمعہ مسجد دارالذکر میں ادا کرتے تھے۔سانحہ کے روز بھی مال روڈ پر واقع اپنے دفتر سے نماز ادا کرنے کے لئے دارالذکر پہنچے۔عموماً مین ہال کی پہلی صف میں بیٹھتے تھے۔سانحہ کے روز بھی پہلی صف میں ہی بیٹھے اور دہشتگردوں کے آنے پر امیر صاحب کے حکم پر وہیں بیٹھے رہے۔جب باقی دوست ہال کے پچھلے گیٹ سے جان بچانے کے لئے باہر جارہے تھے تو ان کو بھی کہا گیا لیکن انہوں نے کہا کہ پہلے باقی دوست چلے جائیں، پھر میں جاؤں گا۔اسی دوران دہشتگرد کی گولیوں سے شہید ہو گئے۔شہید مرحوم کی شہادت پر ان کے دفتر والوں نے ان کی یاد میں اپنے دفتر میں دو گھنٹے کا پروگرام بھی رکھا۔تمام سٹاف تعزیت کے لئے ان کے گھر بھی آیا اور بہت اچھے الفاظ میں شہید کو یاد کیا۔ان کی شہادت پر ان کے دفتر کا سٹاف ہسپتال میں بھی ان کی مدد کے لئے موجود تھا اور تدفین کے لئے ربوہ بھی آئے۔ان کی کمپنی کے ڈائریکٹر کراچی سے تعزیت کے لئے سیالکوٹ بھی آئے اور ربوہ بھی آئے اور بہت دکھ اور رنج کا اظہار کیا۔شہید مرحوم کی اہلیہ بتاتی ہیں کہ اپنے والدین اور بزرگوں کے نہایت ہی فرمانبر دار تھے۔ہر کسی سے عزت و احترام سے پیش آتے تھے۔والدین کے ساتھ کبھی بھی اونچی آواز میں بات نہیں کی بلکہ اس چیز کو گناہ سمجھتے تھے۔جماعت کے نہایت ہی خدمت کرنے والے ممبر تھے۔جماعت لاہور کے چندوں کے حوالے سے سوفٹ وئیر بھی تیار کیا۔ناظم اطفال کے طور پر خدمت کرتے رہے اور بچوں سے نہایت ہی شفقت اور محبت کا تعلق تھا۔شہادت کے بعد ان کا جنازہ ان کے خاندان والے لاہور سے سیالکوٹ لے گئے جہاں نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد تدفین کے لئے ربوہ لے آئے۔وسیم صاحب کو شہادت کی بہت تمنا تھی۔اکثر کہتے تھے کہ اگر کبھی میری زندگی میں ایسا وقت آیا تو میر اسینہ سب سے آگے ہو گا۔