خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 354 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 354

خطبات مسرور جلد ہشتم 354 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09 جولائی 2010 کے حلقے کی مجلس عاملہ کا اجلاس اکثر رات کو نو یا دس بجے شروع ہو تا تھا۔رات گئے سخت سردی میں سائیکل پر اجلاس میں شامل ہوتے اور اپنی ہدایت سے نوازتے۔صدیقی صاحب لکھتے ہیں کہ جب ان کی لاہور میں تبدیلی ہوئی تو بڑے خوش تھے کہ ماڈل ٹاؤن میں تبدیلی ہو گئی ہے اور ساتھ جب میں نے بتایا کہ میری بھی سرکاری ملازمت لاہور پوسٹنگ ہو گئی ہے تو مذاق سے مجھے کہنے لگے کہ صدیقی صاحب! لاہور تک ساتھ جانا ہے یا آگے بھی ساتھ جانا ہے؟ ان کے بارہ میں ایک مربی صاحب نے مزید لکھا ہے کہ شہید ایک ہنس مکھ اور بڑی سے بڑی مصیبت اور دکھ کو خندہ پیشانی سے برداشت کر کے مسکرانے والے تھے۔دلیر اور نڈر تھے۔تبلیغ کے شیدائی تھے۔خاکسار کی تقرری جب تنزانیہ میں ہوئی تو ان کے ساتھ دار السلام سے مورو گور و جارہا تھا۔راستے میں کچھ مولوی برلب سڑک نظر آئے۔محمود شاد صاحب نے گاڑی روکی اور ان کو تبلیغ کرنے لگے جبکہ شام کا وقت ہو چلا تھا اور آگے راستہ بھی خطرناک تھا۔ایک مجمع اکٹھا ہو گیا اور دعوت الی اللہ سے تمام لوگ مستفید ہوئے اور ان مولویوں کو لاجواب کر کے دوڑا دیا۔گاڑی میں بیٹھتے ہوئے خاکسار کو کہا کہ ہمیں یہاں مذہبی آزادی ہے ، ڈرنا نہیں کھل کر تبلیغ کریں۔پھر ان کے بارے میں مزید لکھتے ہیں کہ شہید مرحوم کئی بہنوں کے اکیلے بھائی تھے۔اس لئے والدین اور خاص طور پر بیمار والدہ کی خوب خدمت کی۔جب آپ کا تقرر بیرونِ ملک ہونے والا تھا تو پریشان تھے کہ بیمار والدہ کو کس کے پاس چھوڑ کر جاؤں گا؟ چنانچہ والدہ کی زندگی میں آپ کو پاکستان میں ہی خدمت کا موقع ملتارہا۔یہ بھی مربی صاحب ہیں، لکھ رہے ہیں کہ جب خاکسار کا تقرر 1999ء میں بطور امیر ، انچارج مبلغ تنزانیہ ہوا تو اس وقت آپ تنزانیہ میں تعینات تھے۔بڑے ہی شوق اور لگن سے تبلیغ کیا کرتے تھے۔نئی سے نئی جگہوں پر رابطے کر کے ویڈیو آڈیو کیسٹ کے ذریعے اور مجالس لگا کر آپ تبلیغی کیمپس لگایا کرتے تھے جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے کئی جماعتیں بھی عطا کیں۔آپ ارنگا (Iringa) تنزانیہ میں تعینات تھے کہ آپ کی کامیابیوں کو دیکھتے ہوئے مقامی علماء نے عرب ریاستوں کی طرف سے مذہبی امداد دینے والے ایجنٹوں سے ویسی ہی تبلیغی سہولیات کا مطالبہ کرناشروع کیا جو احمدی مبلغ محمود احمد شاد صاحب کو حاصل تھیں تاکہ وہ احمد یہ نفوذ کو روک سکیں۔جب ایک ایک کر کے ان کی تمام تبلیغی ضروریات پوری کر دی گئیں اور کوئی نتیجہ نہ نکلا بلکہ احمدیت مزید تیزی سے صوبے میں پھیلتی رہی تو مقامی علماء سے پوچھا گیا کہ کیا وجہ ہے کہ تمام تبلیغی سہولیات کے حصول کے بعد بھی آپ کے کام کا کوئی نتیجہ نہیں نکل رہا؟ تو انہوں نے کہا کہ ابھی ہمارے پاس ایک چیز کی کمی ہے؟ وہ یہ کہ جماعت احمدیہ کے پاس پاکستانی مبلغ ہے جو کہ ہمارے پاس نہیں ہے۔اگر ہمیں بھی ایک پاکستانی مبلغ دے دیا جائے تو اس کی رہنمائی میں ہم بھی کامیاب ہوں گے۔یہ بھی بیچاروں کی غلط فہمی تھی کیونکہ ان کے جو غیر از جماعت پاکستانی مبلغ آنے تھے انہوں نے ان کو تبلیغ کے بجائے صرف گالیاں سکھائی تھیں۔