خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 356
خطبات مسرور جلد ہشتم 356 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09 جولائی 2010 مکرم عمران ندیم صاحب سیکر ٹری اشاعت مجلس اطفال الاحمدیہ ضلع لاہور ان کے بارے میں بتاتے ہیں کہ نہایت دھیمی طبیعت تھی، اطاعت کا مادہ بہت زیادہ تھا، بڑے آرام سے اور غور سے بات سنتے اور پھر ہدایت پر عمل کرتے۔کسی اجلاس یا پروگرام میں بچوں کو شامل کرنے کے لئے اپنی گاڑی پر بڑی ذمہ داری سے لاتے اور گھر واپس چھوڑتے۔دوسروں کے بچوں کو گھروں سے اکٹھا کرتے تھے۔آخری دم تک یہ جماعتی خدمات سر انجام دیتے رہے۔صدر صاحب حلقہ علامہ اقبال ٹاؤن ان کے بارے میں بتاتے ہیں کہ بہت ہی مخلص احمدی نوجوان تھے۔مجلس خدام الاحمدیہ کے کاموں میں بہت دلچسپی لیتے تھے۔اطفال کی تعلیم و تربیت کے لئے بہت ہی بہترین رہنما تھے۔وسیم صاحب پانچ بہن بھائیوں میں سب سے بڑے تھے۔نہایت ہی لائق ذہین اور محنتی نوجوان تھے۔ان کی والدہ محترمہ نے ان کی تعلیم و تربیت میں بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔والدین کے کم تعلیم یافتہ ہونے کے باوجو د والدین کی خواہش تھی کہ ان کی اولاد تعلیم حاصل کرے۔چنانچہ اپنی لگن اور علم سے محبت کی بدولت کامیاب ہوئے۔ان کی اہلیہ نے مجھے خط لکھا تھا، کہتی ہیں کہ ان کی خوبیاں تو شاید میں گنوا ہی نہیں سکتی۔حضور ! اگر میں یہ کہوں کہ وہ ایک فرشتہ صفت انسان تھے تو جھوٹ بالکل نہ ہو گا۔یہ تو پورے خاندان کے افراد کا کہنا ہے کہ وسیم صاحب جیسا دوسرا نہیں۔میں تو یہی سوچتی ہوں کہ خدا تعالیٰ نے یہ اعزاز وسیم صاحب کی اعلیٰ اور نمایاں خوبیوں کی وجہ سے ہی دیا ہے اور وسیم نے نہ صرف والدین کا اور میر ابلکہ پورے خاندان کا سر فخر سے بلند کر دیا۔پھر لکھتی ہیں کہ جماعت سے محبت کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔دو سال سے ناظم اطفال علامہ اقبال ٹاؤن لاہور تھے۔بچوں سے بہت پیار کرتے تھے۔انتہائی دفتری مصروفیات کے باوجود بچوں کے پروگرام کرواتے اور انہیں علمی مقابلہ جات کے لئے تیار کرتے۔کمزور بچوں پر توجہ دیتے اور ان کے والدین کو بھی تاکید کرتے کہ بچوں کو آگے لائیں۔اکثر ہماری مجلس کے بچے بہت انعامات جیتے اور پھر وسیم صاحب کو دلی خوشی ہوتی تھی۔اپنی گاڑی پر بچوں کو دارالذکر لے کر جاتے اور واپس گھروں تک پہنچاتے۔غرض ہر کام کو محنت اور لگن سے کرتے تھے۔دفتری مصروفیات کے باوجود اکثر شام کو دارالذکر میں میٹنگ کے لئے جاتے اور باجماعت نماز ادا کرتے۔دفتر میں باقاعدگی سے نماز کے وقت نماز ادا کرتے تھے۔میں نے اکثر وسیم صاحب کو نماز ادا کرتے ہوئے غور کیا کہ وہ نماز ادا کرتے ہوئے حق ادا کرتے تھے۔کبھی نماز میں جمائی لیتے یا کوئی ایسی حرکت کرتے ہوئے نہیں دیکھا جس سے لگے کہ ان کا نماز میں دھیان نہیں ہے۔ایسا لگتا تھا جیسے وہ واقعی ہی خدا تعالیٰ کو سامنے دیکھ کر دعا کر رہے ہیں۔پھر لکھتی ہیں: مالی قربانی میں بھی وسیم صاحب ہمیشہ پیش پیش رہتے تھے۔ہمیشہ اپنی تنخواہ پر پورے دس حصہ ادا کرتے۔اور اس کے علاوہ جو بھی چندہ جات ہوتے ان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔کبھی بھی اپنی ذات پر فالتو پیسے خرچ نہیں کرتے تھے۔کبھی اپنے والدین کے سامنے اونچی آواز سے بات نہیں کی۔نہ صرف والدین سے بلکہ کسی سے بھی کبھی اونچی آواز سے بات