خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 322
322 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 25 جون 2010 خطبات مسرور جلد ہشتم تعالیٰ عنہ کے دورِ خلافت میں ان کے دادا مکرم مرزا نذیر احمد صاحب کے ذریعے سے ہوا۔مرزا نذیر احمد صاحب نے خلیفتہ المسیح الثانی کی بیعت کی۔میٹرک لاہور سے کیا اس کے بعدلائلپور یونیورسٹی سے دو سال تعلیم حاصل کی۔ہوسٹل میں بعض مشکلات کی بنا پر یونیورسٹی چھوڑ دی اور کراچی چلے گئے۔جہاں سے مکینکس میں تین سالہ ڈپلومہ کیا۔بعد ازاں مزید ایک سال کا کورس کیا۔اپنے شعبہ سے متعلق ایک ملازمت کراچی میں کی۔اس کے بعد جاپان چلے گئے۔1981ء سے سولر انرجی میں انجینئر کی حیثیت سے 21 سال جاپان میں مقیم رہ کر کام کیا۔وہاں جماعتی خدمات کی توفیق پائی۔جاپان میں ٹوکیو مشن بند ہوا تو آپ کا گھر بطور مشن ہاؤس استعمال ہو تا تھا۔1983ء میں کوریا میں وقف عارضی کا موقع ملا۔1985ء میں جلسہ سالانہ یو کے میں جاپان کی نمائندگی کی توفیق حاصل ہوئی۔1993ء میں صدر خدام الاحمدیہ جاپان کی حیثیت سے ایک پہاڑ کی چوٹی کو سر کرنے اور اس پر اذان دینے کی سعادت پائی۔1999ء میں بیت الفتوح کے سنگ بنیاد کے موقع پر آپ کو اور ان کی بیگم کو جاپان کی نمائندگی کی توفیق ملی۔جاپان میں بطور صد ر جماعت ٹوکیو سیکرٹری مال کے علاوہ 2001ء سے 2003 ء تک نائب امیر جاپان کی حیثیت سے خدمت کی توفیق پائی۔ایک موقع پر حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے شہید مرحوم کی اطاعت اور تقویٰ کے نمونہ پر اظہارِ خوشنودی کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ کرے کہ سب جماعت جاپان ان کے نمونے پر چلنے کی توفیق پائے۔جاپان میں اکیس سال قیام کے دوران ملازمت کے علاوہ دیگر تعلیمی کوششیں بھی کرتے رہے۔2003ء میں پاکستان شفٹ ہو گئے۔لاہور میں کیولری گراؤنڈ میں رہتے تھے ، آپ کا گھر وہاں بھی نماز سینٹر تھا۔شہادت کے وقت ان کی عمر 56 سال تھی۔اللہ کے فضل سے موصی تھے۔دارالذکر میں شہادت پائی۔ہمیشہ پہلی صف میں بیٹھتے تھے اور وہاں امام صاحب کے قریب بیٹھے تھے۔ان کے سر کے پچھلی طرف گولی لگی اور دایاں ہاتھ گرنیڈ سے زخمی ہوا جس سے شہادت ہو گئی۔شہید مرحوم کی اہلیہ بتاتی ہیں کہ خلافت سے بے انتہا محبت کرنے والے تھے۔جب بھی لندن جاتے تو ان کی کوشش ہوتی کہ نماز خلیفہ وقت کے پیچھے ادا کریں۔خطبات کو ہمیشہ بڑے غور سے سنتے تھے۔یہاں سے جو لا ئیو خطبات جاتے ہیں کسی وجہ سے براہِ راست نہ سن سکتے تو جب تک سن نہ لیتے ، اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھتے تھے۔کہتی ہیں کہ حقیقی معنوں میں محبت سب کے لئے نفرت کسی سے نہیں“ کے مصداق تھے۔سب بچے بوڑھے ہر ایک ان سے عزت سے پیش آتا، سب کے دوست تھے۔امانتوں کی حفاظت کرنے والے ، وعدوں کا ایفاء کرنے والے اور اعلیٰ معیار کی قربانی کرنے والے تھے۔ہر چیز میں سادگی ان کا شعار تھا۔ایک نہایت محبت کرنے والے شوہر تھے۔کہتی ہیں میری چھوٹی چھوٹی باتوں کا بھی خیال رکھتے تھے اور کبھی تھکی ہوتی تو کھانا بھی بنادیا کرتے۔گلے شکوے کی عادت نہیں تھی۔جاپان میں ہمارے ایک ملک منیر احمد صاحب ہیں ، انہوں نے لکھا کہ مرزا ظفر احمد صاحب جب جاپان