خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 321 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 321

خطبات مسرور جلد ہشتم 321 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 جون 2010 مکرم عامر لطیف پراچہ صاحب اگلا ذکر ہے مکرم عامر لطیف پراچہ صاحب شہید کا ابن عبد اللطیف پراچہ صاحب۔موصوف شہید کے والد ضلع سرگودھا کے رہنے والے تھے۔اور والد صاحب ضلع سرگودھا کی عاملہ کے فعال رکن تھے۔حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ قریبی تعلق تھا۔حضور رحمہ اللہ تعالیٰ جب جابہ تشریف لے جاتے تو راستے میں اکثر اوقات شہید مرحوم کے والد مکرم عبد اللطیف صاحب کے گھر ضرور قیام کرتے تھے۔شہید کے والد کے نانا مکرم بابو محمد امین صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔شہید نے ابتدائی تعلیم سر گودھا سے حاصل کی اور ایم بی اے لاہور سے کیا۔جماعتی چندہ جات اور صدقات باقاعدگی سے دیتے تھے۔بزرگان کی خدمت کرتے تھے۔سابق امیر ضلع سرگودھا مر زا عبد الحق صاحب کے ساتھ کام کرتے رہے۔سانحہ کے دوران بھائی کو فون کیا کہ میرے ارد گرد شہداء کی نعشیں پڑی ہیں۔جب آکے دیکھا گیا تو ان کے چہرے پر گن کے بٹ کے کندے کے نشان بھی تھے۔شاید کسی دہشتگر د سے گتھم گتھا ہوئے اور اس وقت اس نے مارا۔یا یہ دیکھنے کے لئے کہ شہادت ہوئی ہے کہ نہیں، بعض لوگوں کو ویسے بھی گن سے مار کے دیکھتے رہے ہیں۔اسی طرح ایک گرنیڈ بھی ہاتھ پر لگا ہوا تھا۔اس کے زخم تھے۔دارالذکر میں باہر سیڑھیوں کے نیچے بیٹھے تھے۔وہیں پر شہید ہوئے۔ان کے اہل خانہ نے بتایا کہ نہایت دیانت دار اور امانت دار انسان تھے۔دیانت داری کی وجہ سے جیولرز ڈیڑھ ڈیڑھ کروڑ کی جیولری ان کے حوالے کر دیا کرتے تھے۔احمدیت کو کبھی نہیں چھپایا۔والد صاحب عرصہ دراز بیمار رہے۔ان کی وفات تک علالت میں ان کی بہت خدمت کی۔اسی طرح والدہ صاحبہ بھی بیمار ہیں۔ان کی بے پناہ خدمت کرتے تھے۔چندہ جات اور مالی تحریکات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے۔صدقہ و خیرات عمومی طور پر چھپا کر کرتے۔اپنے آبائی علاقے سر گودھا کے بہت سارے مریضوں کو لاہور لا کر مفت علاج کرواتے تھے۔قربانی کا بہت جذبہ تھا۔نماز کے پابند ، قرآن با قاعدگی سے پڑھتے۔گھر والوں نے کہا کہ رات اڑھائی تین بجے، ان کو تہجد پڑھتے اور قرآن پڑھتے دیکھا ہے۔شہید مرحوم کی والدہ محترمہ نے بتایا کہ میں شہید مرحوم کے والد صاحب مرحوم کو کچھ عرصہ خواب میں مسلسل دیکھ رہی تھی۔شہید کی ایک خادمہ نے بتایا کہ شہادت سے چند دن قبل والدہ کے لئے چار سوٹ لے کر آئے تو والدہ نے کہا کہ میرے پاس تو پہلے ہی بہت سوٹ ہیں۔تو انہوں نے کہا کہ ماں پتہ نہیں کب تک میری زندگی ہے آپ میرے لائے ہوئے سوٹ پہن لیں۔مکرم مرزا ظفر احمد صاحب اگلا ذکر ہے مکرم مرزا ظفر احمد صاحب شہید ابن مکرم مرزا صفدر جنگ ہمایوں صاحب کا۔شہید مرحوم اکتوبر 1954ء میں منڈی بہاء الدین میں پیدا ہوئے۔خاندان میں احمدیت کا آغاز حضرت مصلح موعود رضی اللہ