خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 305
خطبات مسرور جلد ہشتم 305 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 جون 2010 ضلع بہار، بھارت سے تھا۔علیگڑھ یونیورسٹی کے سٹوڈنٹ تھے، یونیورسٹی میں ایک احمدی سٹوڈنٹ سے ملاقات ہوئی جس نے ان کے والد کو کہا کہ حضرت عیسی فوت ہو گئے ہیں اور امام مہدی علیہ السلام آچکے ہیں۔تو شہید کے والد نے محی الدین صاحب نے غصے میں اس احمدی سٹوڈنٹ کا سر پھاڑ دیا۔بعد میں شرمندگی بھی ہوئی، پھر کچھ کتابیں پڑھیں تو مولوی ثناء اللہ امرتسری سے رابطہ کیا۔اس نے گالیوں سے بھری ہوئی کتابیں ان کو بھیج دیں۔یہ دیکھ کر ان کو غصہ آیا اور کہا کہ میں نے ان سے مسائل پوچھے ہیں اور یہ گالیاں سکھا رہے ہیں۔چنانچہ احمدیت کی طرف مائل ہوئے اور بیعت کر کے احمدیت میں شامل ہو گئے۔یہ مُلاں کی عادت جو ہمیشہ سے ہے آج تک بھی یہی قائم ہے۔اب پوچھنے پر یہ گالیوں کا لٹریچر نہیں بھیجتے بلکہ ٹی وی پر بیٹھ کے جماعت کے خلاف جو منہ میں آتا ہے بکتے چلے جاتے ہیں۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف بڑی دریدہ دہنی کرتے ہیں۔بہر حال اس سے لوگوں کو توجہ بھی پیدا ہوتی ہے، اسی طرح ان کو توجہ پیدا ہوئی۔شہید تو پیدائشی احمدی تھے۔ان کے والد وکیل تھے ، پھر انجمن کے ممبر بھی تھے۔رانچی میں انہوں نے میٹرک کیا اور میٹرک فرسٹ ڈویژن میں کیا تو والد بہت خوش ہوئے۔پھر پٹنہ یونیورسٹی سے ایم اے انگلش کیا۔پارٹیشن کے بعد یہ لاہور آگئے اور 1969ء میں ایم سی بی جوائن کیا۔1997ء میں بینک مینیجر کی حیثیت سے ریٹائر ڈ ہوئے۔لیکن ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ایم سی بی بینک میں کام کرتے رہے۔شہادت کے وقت ان کی عمر 72 سال تھی۔اور نظام وصیت میں شامل تھے۔مسجد میں آتے ہی سنتیں ادا کیں۔مربی صاحب سے ایک صف پیچھے بیٹھ گئے۔اور ساتھ بیٹھے بزرگ مکرم مبارک احمد صاحب کے ماتھے پر گولی لگی تو ان کو تسلی دیتے رہے۔اسی دوران دہشتگرد کی گولیوں کا نشانہ بنے اور زخمی ہو گئے ، اٹھنے کی بہت کوشش کی لیکن اٹھ نہیں سکے۔سامنے سے گولی نہیں لگی تھی البتہ ریڑھ کی ہڈی میں گولی لگی اور وہیں شہید ہو گئے۔بہت دھیمی طبیعت کے مالک تھے۔لیکن اگر کوئی شخص جماعت یا بزرگان سلسلہ کے متعلق کوئی بات کرتا تو ان کو ہر گز برداشت نہیں کرتے تھے۔کم گو تھے لیکن اگر کوئی حضرت مسیح موعود علیہ السلام یا خلفائے سلسلہ کا ذکر چھیڑ دیتا تو گھنٹوں ان سے باتیں کرتے رہتے تھے۔جماعت سے خاموش لیکن گہری وابستگی تھی اور عشق کی حد تک پیار تھا۔سب بچوں کو تکلیف کے باوجود پڑھایا۔بچے ڈاکٹر بنے۔ایک کو آئی ٹی میں تعلیم دلوائی۔اور ایک بیٹی کو فرنچ میں ایم اے کروایا۔سب بچے اللہ تعالیٰ کے فضل سے اپنے اپنے اچھے کاموں میں لگے ہوئے ہیں۔ان کے بارے میں اہل خانہ لکھتے ہیں کہ جمعہ کی نماز کا خاص طور پر بڑا خیال رکھتے تھے اور یہی وجہ تھی جس نے اولاد میں نماز کی محبت پیدا کی۔ایک دفعہ ایک بار ان کی اہلیہ بہت بیمار ہو گئیں اور انہیں ہسپتال داخل کروانا پڑا اور جمعہ کا وقت ہو گیا تو یہ سیدھے وہیں سے مسجد چلے گئے۔یہ نہ سوچا کہ واپس آؤں گا تو اہلیہ زندہ بھی ہوں گی کہ نہیں۔وہ کافی شدید بیمار تھیں۔مکرم محمد اشرف بھلر صاحب محمد اشرف بھلر صاحب شہید ابن مکرم محمد عبد اللہ صاحب شہید مرحوم کے آباؤ اجداد رکھ شیخ ضلع