خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 304 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 304

خطبات مسرور جلد ہشتم 304 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 جون 2010 ہمدردی ہے۔اور مار پیٹ سے تربیت نہیں ہوتی۔کہتے ہیں کہ جب بھی رات کو میری آنکھ کھلتی میں نے رورو کر ان کو اپنی اولاد کے لئے دعائیں کرتے ہوئے ہی دیکھا ہے۔1974ء میں لڑکے کہتے ہیں کہ ہم سیٹلائٹ ٹاؤن گوجر انوالہ میں تھے۔حالات خراب ہونے پر کافی احمدی احباب ہمارے گھر جمع ہو گئے۔اور ڈیڑھ دو ماہ ان کا کیمپ ہمارے گھر کے پاس تھا۔چنانچہ ان سب کی بہت خدمت کی، بہت دیانتدار تھے۔جھوٹ تو منہ سے نکلتا ہی نہیں تھا۔ہمیشہ سچ بولا اور سچ کا ساتھ دیا اور سارے خاندان کی خود کہہ کر وصیت کروائی۔مکرم شیخ ساجد نعیم صاحب شیخ ساجد نعیم صاحب شہید ابن مکرم شیخ امیر احمد صاحب۔شہید مرحوم کے آباؤ اجداد کا تعلق بھیرہ سے تھا۔انہوں نے لاہور سے بی۔اے کیا۔راولپنڈی میں ایم سی بی بینک میں گریڈ تھرڈ کے افسر بھرتی ہوئے۔اور 2003ء میں بطور مینیجر ریٹائرمنٹ لی۔بچے چونکہ لاہور میں تھے اس لئے لاہور آگئے۔مکرم شیخ محمد یوسف قمر صاحب امیر ضلع قصور کے برادر نسبتی تھے۔شہید مرحوم مجلس انصار اللہ کے بہت ہی ذمہ دار رکن تھے۔اور بطور نائب منتظم تعلیم القرآن خدمت کی توفیق پارہے تھے۔بوقت شہادت ان کی عمر 59 سال تھی۔نظام وصیت میں شمولیت کے لئے درخواست دی ہوئی تھی۔مسل نمبر مل چکا تھا۔مسجد بیت النور میں ان کی شہادت ہوئی۔نماز جمعہ کے لئے وقت سے پہلے ہی گھر سے نکل جاتے اور نماز بہت سنوار کر پڑھتے۔عموماً اپنی جگہ بیت النور کے دوسرے ہال میں بیٹھے ہوئے تھے۔فائرنگ شروع ہونے کے پندرہ بیس منٹ کے بعد اپنے بیٹے شہزاد نعیم کو فون کیا کہ تم ٹھیک ہو ؟ وہ ٹھیک تھا اور بتایا کہ ہم لوگ مسجد میں ہی ہیں۔دیگر ساتھیوں کے ساتھ ہال کے مین دروازے کو بند کیا اور اس کے آگے کھڑے رہے، کیونکہ اس دروازے کی کنڈی صحیح طرح نہیں لگ رہی تھی۔اس وجہ سے ہال میں موجود اکثر لوگ بیمینٹ میں جانے میں کامیاب ہو گئے۔دہشتگرد کے اندھا دھند فائرنگ اور بعد میں گرینیڈ کے پھٹنے کی وجہ سے شہید ہو گئے۔ایک بیٹے کی شادی اور ملازمت کی وجہ سے فکر مند تھے۔اور اس دن بھی، جمعہ والے دن بیٹے کا انٹر ویو دلوایا۔اس سے سوال جواب پوچھے ، کیسا ہوا؟ اور خوش تھے کہ انشاء اللہ نوکری مل جائے گی۔اور پھر اللہ کے فضل سے یکم جون سے بیٹے کو نوکری مل بھی گئی۔بیوی بچوں کے حقوق کا بہت خیال رکھتے تھے۔سسرالی رشتوں اور دیگر رشتے داروں کا بھی بہت خیال رکھتے تھے۔نرم طبیعت اور اطاعت گزار تھے۔خلافت سے عشق تھا۔بچوں کی ہر قسم کی ضرورت کا خیال رکھتے تھے۔ان کے بیٹے نے بتایا کہ محلے کے غیر احمدی یا غیر از جماعت دکاندار نے سانحہ کے بعد اتوار کو خواب میں دیکھا کہ شیخ صاحب کہہ رہے ہیں کہ پتہ نہیں میں یہاں کیسے پہنچا ہوں۔لیکن بہت خوش ہوں اور مزے میں ہوں۔مکرم سید لئیق احمد صاحب مکرم سید لئیق احمد صاحب شہید ابن مکرم سید محی الدین احمد صاحب۔شہید کے والد محترم کا تعلق رانچی