خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 306
خطبات مسرور جلد ہشتم 306 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 جون 2010 لاہور کے رہنے والے تھے۔ان کے دادا مکرم چوہدری سکند راحمد صاحب احمدی ہوئے تھے۔چوہدری فتح محمد صاحب سابق نائب امیر ضلع لاہور کے تایا تھے آباؤ اجداد کی زرعی زمین تھی، کھیتی باڑی کرتے تھے۔لیکن کچھ عرصے بعد رائے ونڈ میں اینٹوں کا بھتہ بنا لیا۔تعلیم صرف پرائمری تھی۔2004ء میں عمرہ کرنے کے لئے بھی گئے اور سب بھائیوں کو جماعتی کام کرنے کی تلقین کرتے تھے۔شہادت کے وقت ان کی عمر 47 سال تھی۔گھر کے واحد کفیل تھے۔ماڈل ٹاؤن کی مسجد میں ان کی شہادت ہوئی۔جمعہ باقاعدگی سے ادا کرتے تھے۔سانحہ کے روز بھی مسجد بیت النور کے ہال میں تھے۔ہال کا چھوٹا دروازہ بند کر کے کمر دروازے کے ساتھ لگا کر اس کے آگے کھڑے ہو گئے۔دہشت گرد باہر سے زور لگاتا رہا لیکن دروازہ نہیں کھولنے دیا۔تو دہشت گرد نے باہر سے ہی گولیوں کی بوچھاڑ کر دی جس سے ان کی کمر چھلنی ہو گئی اور موقع پر شہید ہو گئے۔دروازہ توڑنے کے لئے جو گولیوں کی بوچھاڑ کی تو ان کو لگتی رہیں۔دعوت الی اللہ کا بہت شوق تھا۔اپنے علاقے میں اپنی شرافت اور ایمانداری کی وجہ سے بہت مشہور تھے۔بعض غیر از جماعت بھی ان کی نماز جنازہ میں شامل ہوئے۔اور 30 مئی کو نوائے وقت اخبار میں خبر آئی کہ مولویوں کی طرف سے یہ اعلان ہوا کہ جنہوں نے بھی (غیر احمدیوں نے ) ان کا جنازہ پڑھا ہے ان کا نکاح ٹوٹ گیا ہے۔اور یہ خبر ایکسپریس ٹی وی پر بھی چلتی رہی۔جنازہ پڑھنا تو بڑی بات ہے یہ مولوی تو جنہوں نے تعزیت کی ہے اور ہمدردی کی ہے ان کے بھی نکاح توڑ کے بیٹھے ہوئے ہیں۔گھر والے کہتے ہیں کہ عمرہ ادا کرنے کے بعد تہجد کی ادائیگی میں بڑے با قاعدہ ہو گئے تھے۔قرآنِ کریم پڑھنے کی بھی روزانہ تلقین کرتے تھے۔اپنے بچوں کو بھی کہتے تھے کہ قرآنِ کریم روزانہ پڑھو۔چاہے ایک لائن پڑھو اور پھر ترجمہ پڑھو، کیونکہ اس کے بغیر کوئی فائدہ نہیں۔مکرم مبارک احمد طاہر صاحب مکرم مبارک احمد طاہر صاحب شہید ابن مکرم عبد المجید صاحب شہید لاہور کے رہنے والے تھے۔ان کی دادی محترمہ قادیان کی تھیں۔ان کے والد محترم نے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں بیعت کی۔یہ ایک بینک میں ٹائپسٹ کے طور پر بھرتی ہوئے اور اس سروس کے دوران پہلے بی اے کیا۔پھر ایم اے کیا۔اور بینک کے مختلف کورسز بھی کئے اور بینک میں ہی ترقی کرتے کرتے اس وقت نیشنل بنک میں وائس پریذیڈنٹ کے طور پر کام کر رہے تھے۔اور سینیئر پریذیڈنٹ کی پروموشن بھی ان کی ڈیو(Due) تھی۔بینک کے بیسٹ ایمپلائی (Best Employee) ہونے کا ان کو کیش پرائز بھی ملا۔یہ مولانا دوست محمد شاہد مرحوم مؤرخ احمدیت کے داماد تھے۔شہادت کے وقت ان کی عمر 57 سال تھی۔بطور نائب قائد اور ناظم تعلیم حلقہ دارالذکر خدمت سر انجام دے رہے تھے۔اللہ کے فضل سے موصی تھے۔سانحہ والے روز نماز جمعہ ادا کرنے کے لئے اپنے دونوں بیٹوں کے ہمراہ مسجد بیت النور ماڈل ٹاؤن میں آئے اور خود مین ہال میں پیچھے بیٹھ گئے اور دونوں بیٹے دوسرے ہال