خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 297
خطبات مسرور جلد ہشتم 297 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 18 جون 2010 کے ذریعے ہسپتال لے جارہے تھے کہ راستے میں خالق حقیقی سے جاملے۔شہید مرحوم پیشہ کے لحاظ سے الیکٹریشن تھے۔نہایت سیدھے سادھے اور خاموش طبیعت کے مالک تھے۔کبھی کسی سے کوئی زیادتی نہیں کی۔تہجد گزار تھے۔گھر میں بچوں سے دوستانہ ماحول تھا۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔مرزا شابل منیر صاحب مرزا شابل منیر صاحب شہید ابن مکرم مرزا محمد منیر صاحب۔شہید مرحوم کے پڑدادا حضرت احمد دین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے۔جبکہ شہید مرحوم کے والد مکرم مرزا محمد منیر صاحب کا ساؤنڈ سسٹم وغیرہ کا بزنس تھا۔شہید مرحوم بی کام کے بعد بی بی اے(BBA) کر رہے تھے۔اور شہادت کے وقت ان کی عمر 19 سال تھی۔خدام الاحمدیہ کے بڑے سرگرم رکن تھے۔ہر آواز پر لبیک کہا۔اور دارالذکر میں جام شہادت نوش کیا۔شہید مرحوم کے چھوٹے بھائی شہزاد منعم صاحب کے ہمراہ مین ہال میں محراب کے سامنے سنتیں ادا کرنے کے بعد بیٹھے ہوئے تھے کہ فائرنگ شروع ہو گئی۔پہلا حملہ محراب پر ہوا۔اس موقع پر شہید مرحوم پہلے ہال سے باہر نکل گئے۔پھر تھوڑی دیر بعد اندر واپس آئے اور دروازے کے پاس بیٹھ گئے ، اور دوسرا بھائی بھی پاس آ گیا۔گھر فون پر بات کی اور دوستوں سے بھی بات کی۔اتنے میں مینار کی طرف سے ایک دروازے سے ایک دہشت گرد اندر داخل ہوا اور فائرنگ کر دی جس سے کافی لوگ شہید ہو گئے۔شہید مرحوم اس وقت گولی لگنے سے شدید زخمی تھے۔ان کا بھائی کہتا ہے کہ میں نے آواز دی لیکن خاموش رہے۔میں نے دیکھا کہ ٹانگ سے کافی خون بہہ رہا ہے اور مجھے کہا کہ میری ٹانگ سیدھی کرو۔میں نے اپنی قمیض اتار کر پٹی باندھنے کی کوشش کی، لیکن نہیں باندھ سکا کیونکہ کہتے تھے جہاں میں ہاتھ لگاتا تھا وہیں سے گوشت لٹک جاتا تھا۔قریباً آدھا گھنٹہ اسی کیفیت میں رہے۔اور اسی عرصے میں پھر تھوڑی دیر بعد شہادت کا رتبہ پایا۔بھائی کہتا ہے کہ میں ساتھ بیٹھا تھا انہوں نے بڑی ہمت دکھائی۔ایسی حالت میں بھی کوئی چیخ و پکار نہیں تھی۔بلکہ آنکھوں سے لگ رہا تھا خوش ہیں کہ چلو میرا بھائی تو بچ گیا اور بالکل سلامت بیٹھا ہے۔آپ کے ایک دوست نے ، ایک کارکن نے لکھا ہے کہ خدام الاحمدیہ میں ایک حزب کے سائق تھے۔کچھ ماہ سے نہایت جذبہ اور اخلاص کے ساتھ کام کر رہے تھے۔ایک مرتبہ خاکسار رات ساڑھے گیارہ بجے گھر گیا کہ حقیقۃ الوحی کے پرچے پر کروانے تھے۔وہ اسی وقت موٹر سائیکل لے کر نکل کھڑے ہوئے اور گھروں کا دورہ کیا۔ان کے پاس گاڑی ہوتی تو اس کے علاوہ بھی مجلس کے کاموں کے لئے پیش کرتے۔غرض نہایت شریف، سادہ اور کبھی نہ نہ کرنے والے وجود تھے۔ان کے ایک دوست نے لکھا کہ مجھے خواب میں شامل منیر ملائیں اس سے کہتا ہوں کہ تم کدھر ہو تو وہ مجھے جواب دیتا ہے ، (شہادت کے بعد کا ذکر ہے) کہ بھائی میں تو ادھر ہوں تم کدھر ہو۔پھر وہ ساتھ ہی مجھے کہتا ہے کہ بھائی میں ادھر بہت خوش ہوں تم بھی آجاؤ۔