خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 298 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 298

خطبات مسرور جلد ہشتم 298 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 جون 2010 مجھے خود بھی وہ خوش محسوس ہوتا ہے۔پھر یہ منظر ختم ہو جاتا ہے۔بہر حال اللہ تعالیٰ اس نوجوان کے بھی درجات بلند فرمائے۔یہ وہ نوجوان ہیں، جو اپنے پیچھے رہنے والے نوجوانوں کو اپنا عہد پورا کرنے کی یاد دلاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہم تو قربان ہو گئے ، تم اپنے عہد سے پیچھے نہ ہٹنا۔رم ملک مقصود احمد صاحب مکرم ملک مقصود احمد صاحب شہید ابن مکرم ایس اے محمود صاحب۔شہید مرحوم کے دادا بٹالہ کے رہنے والے تھے جبکہ ان کے والد صاحب مکرم ایس اے محمود صدر پاکستان ایوب خان کے مشیر بھی رہے۔اسی طرح ان کے نانا حضرت ملک علی بخش صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے اور ریاست بھوپال کے رہنے والے تھے۔بچپن میں ان کی والدہ محترمہ کے سر پر بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنا شفقت بھرا ہاتھ پھیرا تھا، شہید مرحوم کے نانا، دادا اور والدہ محترمہ صحابی تھے۔شہید مرحوم کی پیدائش بھوپال میں ہوئی۔نانی محترمہ مختار بی بی صاحبہ کے پاس انہوں نے قادیان میں پرورش پائی۔تعلیم الاسلام کالج میں زیر تعلیم رہے۔ایف اے کے امتحان سے قبل واپس بھوپال چلے گئے۔پھر یہ فیملی لاہور آکر سیٹل (Settle) ہو گئی۔شہادت کے وقت ان کی عمر 80 سال تھی۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصی تھے اور اپنے حلقے میں بطور سیکرٹری تعلیم ، سیکرٹری تعلیم القرآن امین اور آڈیٹر خدمت کی توفیق پارہے تھے۔شہید مرحوم ملک طاہر صاحب قائمقام امیر ضلع لاہور کے بہنوئی تھے۔دارالذکر میں ان کی شہادت ہوئی۔شہید مرحوم کے نواسے نے بتایا کہ وہ مسجد کے مین ہال میں دوسری صف میں بیٹھے تھے۔فائرنگ کے وقت مربی صاحب کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے صحن کی طرف باہر نکلے تو دیکھا کہ شہید مرحوم کانوں میں انگلیاں ڈال کر لیٹے ہوئے تھے۔لیکن مجھے ان کے اندر کوئی حرکت نظر نہیں آ رہی تھی۔شاید اس وقت شہید ہو چکے ہوئے تھے کیونکہ کافی گولیاں لگی ہوئی تھیں۔شہید مرحوم کے اہل خانہ نے بتایا کہ پنجوقتہ نماز اور تہجد کے پابند تھے۔باقاعدگی سے چندے ادا کرتے تھے۔تبلیغ کا بہت شوق تھا۔جماعتی کتب کا مطالعہ اور خلیفہ وقت کے خطبات باقاعدگی سے سنتے تھے۔ایم ٹی اے کے دیگر پروگرام بھی دلچسپی سے دیکھتے اور سنتے تھے۔اکاؤنٹس کے ماہر تھے۔ایک مرتبہ بتایا کہ بچپن میں قادیان میں مقابلہ ہوا کہ کون سب سے پہلے مسجد آئے گا تو دیکھا کہ آپ صبح اڑھائی بجے مسجد پہنچے ہوئے تھے۔حالانکہ اس وقت آپ کی بہت چھوٹی عمر تھی۔ان کے ایک بیٹے تبسم مقصود صاحب وکیل ہیں اور زندگی وقف کر کے آج کل ربوہ میں کام کر رہے ہیں۔مکرم چوہدری محمد احمد صاحب مکرم چوہدری محمد احمد صاحب شہید ابن مکرم ڈاکٹر نور احمد صاحب۔شہید مرحوم کے والد صاحب اور دادا مکرم چوہدری فضل داد صاحب نے 96-1895 میں بیعت کر کے جماعت میں شمولیت اختیار کی۔آبائی تعلیم کھیوہ ضلع فیصل آباد سے حاصل کی۔شہید مرحوم کے والد صاحب حضرت میر محمد اسماعیل صاحب کے ساتھ جو نئیر ڈاکٹر یہ تصحیح روزنامه الفضل ربوہ مورخہ 8 مارچ 2011ء کے مطابق ہے۔