خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 296 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 296

296 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 18 جون 2010 خطبات مسرور جلد ہشتم 1975ء میں یہ خاندان لاہور شفٹ ہو گیا۔اپنے والد کے ساتھ یہ ٹھیکے داری کا کام کرتے تھے۔میٹرک تک حاصل کی۔خدام الاحمدیہ کے بہت دلیر اور جرات مند رکن تھے۔دوسرے دو بھائی بھی ان کے کاروبار میں شریک تھے۔ان کے ایک بھائی مکرم محمد احمد صاحب صدر جماعت ہڈیارہ ضلع لاہور ہیں۔دارالذکر میں انہوں نے شہادت پائی۔اور ان کی عمر 33 سال تھی۔مسجد دارالذکر میں نماز جمعہ سے قبل سنتیں ادا کر رہے تھے کہ شیلنگ شروع ہو گئی۔سلام پھیرنے کے بعد اپنی بنیان اتار کر ایک لڑکے کے زخموں کو باندھا جو ان کے ساتھ ہی زخمی تھا اور اس کو تسلی دی اور اس کے بعد انتہائی بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک دہشتگرد کو پکڑ کر گرانے اور قابو پانے میں کامیاب ہو گئے۔اسی دوران دوسرے دہشت گرد نے گولیوں کی بوچھاڑ کی اور ان کو شہید کر دیا۔مکرم حاجی محمد اکرم ورک صاحب مکرم حاجی محمد اکرم ورک صاحب شہید ابن مکرم چوہدری اللہ دتہ ورک صاحب۔شہید مرحوم کے آباؤ اجداد قاضی مرال ضلع شیخو پورہ کے رہنے والے تھے۔ان کے آباؤ اجداد نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں بیعت کی تھی۔بعد میں یہ خاندان علی پور قصور میں شفٹ ہو گیا۔جہاں شہید مرحوم کی پیدائش ہوئی۔میٹرک تک ان کی تعلیم تھی۔پچاس کی دہائی میں یہ خاندان لاہور شفٹ ہو گیا۔محکمہ اوقاف میں ملازم تھے۔1966ء میں ریٹائر ہو گئے۔کافی عرصہ اپنے حلقے کے زعیم انصار اللہ رہے۔شہادت کے وقت سیکرٹری تعلیم اور نائب صدر حلقہ تھے اور ان کی عمر 74 سال تھی۔ان کی شہادت بھی دارالذکر میں ہوئی ہے۔چوتھی صف میں مسجد میں بیٹھے تھے۔جہاں دہشتگردوں کی فائرنگ سے شہید ہو گئے۔ان کے والد صاحب نے اپنا پتو کی والا آبائی گھر جماعت کو تحفہ میں پیش کر دیا تھا جو آج کل مربی ہاؤس ہے۔ان کے والد صاحب پتو کی جماعت کے کافی عرصہ صدر رہے ہیں۔اہل خانہ نے بتایا کہ بہت محنتی تھے۔بزرگ ہونے کے باوجود اہل خانہ اور دیگر چھوٹے بچوں کی خدمت کیا کرتے تھے۔بڑے صاف گو انسان تھے۔مکرم میاں لئیق احمد صاحب مکرم میاں لئیق احمد صاحب شہید ابن مکرم میاں شفیق احمد صاحب۔شہید مرحوم کے آباؤ اجداد انبالہ کے رہنے والے تھے۔پڑدادا مکرم بابو عبد الرحمن صاحب انبالہ کے امیر رہے۔پارٹیشن کے بعد یہ خاندان ہجرت کر کے لاہور آگیا۔یہ شہید مرحوم انبالہ میں پیدا ہوئے۔بنیادی تعلیم لاہور سے حاصل کی۔شہادت کے وقت ان کی عمر 66 سال تھی۔ان کو بطور سیکرٹری اشاعت حلقہ کینال پارک خدمت کی توفیق مل رہی تھی۔مسجد دارالذکر میں ان کی شہادت ہوئی۔مسجد کے مین بال کی تیسری صف میں کرسی پر بیٹھے ہوئے تھے کہ دہشتگردوں کی فائرنگ سے شدید زخمی ہو گئے۔تین گھنٹے تک تو وہاں سے کوئی نکل نہیں سکتا تھا۔اس دوران ان کو بلیڈنگ اتنی ہو گئی تھی کہ ایمبولینس