خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 11
خطبات مسرور جلد ہشتم 11 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ یکم جنوری 2010 اس کے مفید مطلب ہے اور کوئی چوکیدار وغیرہ بھی نہیں جاگتا ہے تو ایسی حالت میں وہ چوری کے سوا کسی اور راہ کو بھی جانتا ہے جس سے اُس کا رزق آسکتا ہے؟ وہ اپنے ہتھیاروں کو ہی اپنا معبود جانتا ہے۔غرض ایسے لوگ جن کو اپنی ہی حیلہ بازیوں پر اعتماد اور بھروسہ ہوتا ہے اُن کو خدا سے استعانت اور دعا کرنے کی کیا حاجت ؟“ ( اپنے حیلوں کو اپنے بہانوں کو اپنے ذرائع کو ہی سب کچھ سمجھتے ہیں ان کی پھر توجہ دعا کی طرف بھی نہیں ہوتی)۔دعا کی حاجت تو اُسی کو ہوتی ہے جس کے سارے راہ بند ہوں اور کوئی راہ سوائے اُس در کے نہ ہو۔اُسی کے دل سے دعا نکلتی ہے۔رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً الخ ایسی دعا کرنا صرف انہیں لوگوں کا کام ہے جو خدا ہی کو اپنا رب جان چکے ہیں۔اور ان کو یقین ہے کہ ان کے رب کے سامنے اور سارے ارباب باطلہ بیچ ہیں“۔فرمایا کہ ”آگ سے مراد صرف وہی آگ نہیں جو قیامت کو ہو گی بلکہ دنیا میں بھی جو ایک لمبی عمر پاتا ہے وہ دیکھ لیتا ہے کہ دنیا میں بھی ہزاروں طرح کی آگ ہیں۔تجربہ کار جانتے ہیں کہ قسم قسم کی آگ دنیا میں موجود ہے۔طرح طرح کے عذاب، خوف، حُزن، فقرو فاقے، امراض، ناکامیاں، ذلت و ادبار کے اندیشے ، ہزاروں قسم کے دکھ، اولاد، بیوی وغیرہ کے متعلق تکالیف اور رشتہ داروں کے ساتھ معاملات میں اُلجھن۔غرض یہ سب آگ ہیں۔تو مومن دعا کرتا ہے کہ ساری قسم کی آگوں سے ہمیں بچا۔جب ہم نے تیرا دامن پکڑا ہے تو ان سب عوارض سے جو انسانی زندگی کو تلخ کرنے والے ہیں اور انسان کے لئے بمنزلہ آگ ہیں بچائے رکھ“۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 145-144 مطبوعہ ربوہ) اس آیت کی تفسیر میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ ایک بڑا جامع قسم کا اقتباس ہے۔اور بھی بہت سارے ہیں لیکن اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کس کس طرح انسان کو مشکلات آتی ہیں اور اس دعا کا کیا مقصد ہے جس کو سامنے رکھتے ہوئے، ان باتوں کو سامنے رکھتے ہوئے انسان کو دعا کرنی چاہئے۔اللہ تعالیٰ ہمیں ہمیشہ دنیا و آخرت کے حسنہ سے نوازتا رہے۔دنیوی اور اخروی ہر قسم کے آگ کے عذاب سے ہمیں بچائے۔نیکیوں پر قدم مارنے کی توفیق دے اور یہ سال بھی اور آئندہ آنے والا ہر سال بھی جماعت کے لئے، افراد جماعت کے لئے ہر قسم کے دکھوں اور تکلیفوں سے محفوظ رکھتے ہوئے ہر قسم کی حسنہ لے کر آئے۔اللہ تعالیٰ ہمیں ہمیشہ حقیقی رنگ میں تقویٰ پر چلتے ہوئے اس نور سے حصہ پاتے چلے جانے کی توفیق عطا فرماتا رہے جو حضرت محمد مصطفی صلی ا نام لے کر آئے تھے۔الفضل انٹر نیشنل جلد 17 شماره 4 مورخہ 22 جنوری تا 28 جنوری 2010 صفحہ 5 تا 8)